جادوگروں کے ذریعے جنِّی کو حاضر کرنے کے طریقے


                                                                                                                                                نومبر  1999ء
ساحر اور شیطان کے مابین اس بات پر اتفاق ہوتا ہے کہ، ساحر بعض شرکیہ امور اپنا تا ہے یا کفر صریح کا ارتکاب کرتا ہے اور شیطان اس کی خدمت بجالاتا ہے یا پھر ایسے کسی کو مسخر کر دیتا ہے جو اس کی خدمت کرتا ہے۔ غالباً جن وشیاطین کے قبائل کے سرکار (شیطان ) اور ساحر کے درمیان یہ اتفاق قائم ہوتاہے ، اور یہ سرکار اپنے ماتحت قبائل کے بے وقوفوں میں سے ایک کو اس جادو گر کی خدمت کرنے کا حکم دیتا ہے، تو وہ اس کی خدمت کرنے لگتا ہے ۔اور اس کے ہر حکم کو بجالا تا ہے، پھر وہ اس کی مدد سے جو بھی شرکے کام کرنے کا ارادہ کرتا ہے اسے کرتا رہتا ہے۔ (جتنی اللہ تعا لٰی ڈھیل اور طاقت دیتا ہے) مثلا کبھی دو محبت کرنے والوں کے درمیان تفریق پیدا کردیتا ہے۔ اور کبھی میاں بیوی کے مابین جدائی ڈال دیتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اگر وہ ان امور کو انجام دینے میں ساحر کی نافرمانی کرتاہے ۔تو وہ کچھ ایسے منتروں سے سردار کا تقرب حاصل کرتا ہے، جو اس زعیم (سردار ) کی تعظیم اور اللہ کے سوا اسی سے فریاد طلبی پرمشتمل ہوتے ہیں۔ پھر وہ سردار اس ساحر کی خدمت پرمأمور جنّی کو اس نافرمانی کی سزا دیتا ہے۔ اور سختی کے ساتھ اطاعت کا حکم صادر کرتا ہے۔ یا اس کو اس بات کا مکلّف بنا تا ہے کہ اپنے علاوہ کسی اور کو اس مشرک جادو گر کےلئے مسخر کردے۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات جادو گر اور اس کی خدمت میں مأمورجنی کے درمیان بغض و کراہت کے آثار نمودار ہوتے ہیں اور وہ جنی، ساحر کے اہل وعیال کو مختلف طریقے سے ایذاء پہنچاتا رہتا ہے۔ نیز کبھی اس کے مال کو اور کبھی خود ساحر کو بھی نقصان پہنچاتاہے۔ جس کا اثر ، دائمی سر درد، مسلسل بے خوابی اور رات کو گھبراہٹ وغیرہ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ بلکہ سفلی جادو گروں کے بچے ہی پیدا نہیں ہوتے کیونکہ جنی انہیں تکمیل خلقت سے قبل ہی مار ڈالتاہے۔ یہ بات ساحروں میں مشہور ہے یہاں تک کہ بعض ساحر حصول اولاد کی خاطر سحر کو چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ ایک بدیہی بات ہے کہ ساحر کفر و شرک اور خباثت میں جتنا بڑھا ہوا ہوگا، جن وشیطان اسی کی بقدر اس کے احکام کی تعمیل میں سرعت سے کام لے گا۔
ساحر کے کسی جنی یا جنیہ کو حاضر کرنے کے بہت سے طریقے ہوتے ہیں۔ اور تمام طریقے شرک جلی اور کفر صریح پر مشتمل ہوتے ہیں ۔جن میں سے چند اہم طریقوں کا ذکر ان میں پائے جانے والے شرک وکفر کی نوعیت کی نشاندہی کے ساتھ کرنا چاہتاہوں ، جس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے مسلمان اسلامی و قرآنی علاج اور سحری علاج میں تمیز نہیں کرپاتے ہیں۔ کیونکہ جادو گر معالج کفر وشرک سے لبریز منتروں کو سری طور پر پڑھتا ہے ۔اور ان میں موجود بعض قرآنی آیات کو بلندی آواز سے پڑھتا ہے تاکہ مریض یا اس کے اہل خانہ یہ سمجھیں کہ علاج قرآن سے ہورہا ہے، پھر جادو گر کے ہرامر کو وہ تسلیم کرلے۔ ان طریقوں کے ذکر سے میرا مقصد مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو گمراہ کن  اورشر پر مبنی طریقۂ علاج سے متنبہ کرنا اور ڈراناہے۔ 
ایک مرتبہ  1976ءمیں میرے سامنے ایک واقعہ پیش آیا۔میں مغربی بنگال کے مالدہ ضلع میں پڑھ رہا تھا۔ عبداللہ نامی ایک صاحب کا لڑکا میرا ہم نام تھا، اس لڑکے سے میری دوستی ہوگئی ۔اور وقتا فو قتا میں اس کے گھر جانے آنے لگا۔حسب عادت ایک دن شام کو بعد نماز مغرب میں اس کے گھر گیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے والد عبداللہ صاحب باہر کے ایک کمرے میں بیٹھے ہیں اور ان کی بیوی گھر کے اندر خوب چلا رہی ہے، شور مچارہی ہے، کبھی رورہی ہے اور کبھی اول فول بک رہی ہے۔ میرے پوچھنے پر عبداللہ صاحب نے کہا کہ ایک گھنٹے سے ان کی یہ کیفیت ہے۔ میں سامنے جاتاہوں تو اس طرح دھاڑتی ہے جیسے مجھے کھا جائے گی۔ اس وجہ سے اندر جانے کی میری ہمت نہیں ہورہی ہے۔میں نے کہا کہ کسی کو علاج کیلئے بلائے نہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں اپنے لڑکے علاءالدین کو بھیجا ہوں، ایک معالج ہمارے گاؤں میں باہر کسی گاؤں سے آیا ہوا ہے۔ اور جن آسیب بھگا نے میں سنا ہے بہت ماہر ہے۔ بہر کیف ،تھوڑی دیر بعد ہی وہ معالج پہنچ گیا۔ اور عبداللہ صاحب کے ساتھ اندر جانے لگا تو میں بھی اندر گیا، تھوڑی ہی دیر میں اس نے مریضہ کو سامنے بٹھایا اور کچھ پڑھنے اور دم کرنے لگا۔  معالج کی اچھی خاصی داڑھی تھی لیکن چہرے پر رونق نام کو نہیں تھی۔ اس کی عمر کوئی چالیس سے پچاس سال تک کی رہی ہوگی۔ میں بہت غور سے سننے لگا کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے؟ لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آرہاتھا۔ ہاں بیچ بیچ میں بعض قرآنی آیات کو میں سن پاتا تھا جنہیں غالبا مغالطہ میں ڈالنے کیلئے وہ نسبتًا زور سے پڑھتاتھا۔  پڑھنے کے دوران ایک وقت اس کو کچھ زیادہ ہی وجد آگیا اور میرے کان تک غیر اللہ کی دہائی  کی دھیمی سی آواز پہنچ گئی تو مجھ سے رہانہ گیا۔  اور میں نے کہا بابا تم یہ کیا پڑھ رہے ہو؟ یہ کھلا شرک ہے۔میں یہ سب پڑھنے نہیں دوں گا۔ تو اس نے اشارہ سے کہا کہ اس وقت نہ بولو ورنہ تمہارا نقصان ہوجائے گا۔ اس کی یہ بات سن کر مجھے سخت غصہ آیا اور میں نے کہا بکواس بند کرو اگر تمہیں کوئی اچھی چیز معلوم ہوتو اس سے علاج کرو  ،ورنہ چلے جاؤ۔ یہ باتیں میں کہہ رہا تھا اور اندر ہی اندر ڈررہا تھا کہ کہیں عبداللہ صاحب یہ نہ سوچیں کہ یہ خواہ مخواہ رنگ میں بھنگ ڈال رہاہے ۔لیکن وہ ایک نمازی اور پابندِ شرع آدمی تھے چناں چہ انہوں نے بھر پور انداز میں میری تائید کی ، پھر اس آدمی نے کہا اب میں علاج کروں گا ہی نہیں۔ اور وہ تقریبا ًغصہ کی حالت میں چلا گیا۔ اس نے بہت دیر تک منتر پڑھ پڑھ کے دم کیا تھا ۔لیکن اس دوران مریضہ کو کچھ بھی افاقہ نہیں ہوا تھا۔ بہر حال مریضہ بدستور چلا رہی تھی ۔اور اس معالج کو بھگانے کا جرم میں نے ہی کیا تھا۔(وہ مریضہ کو ٹھیک کر پاتایا نہ کرپا تا یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے) اس لئے میں کافی سراسیما تھا۔ اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اب کیا کروں؟ بہر حال زندگی میں وہ پہلا موقع تھا کہ میں نے کسی پردم کیا۔ میں پوری طرح اللہ کی طرف متوجہ ہوا اور اللہ سے دعاء کی کہ اے اللہ ایک ایمان لوٹنے والے مشرک کومیں نے یہاں سے بھگایا اور علاج کرنے نہیں دیا۔ اے اللہ تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ پھرمیں نے سورہ فاتحہ اور سورہ جن کی کچھ آیتیں پڑھ کر دم کرنا شروع کیا۔ تین مرتبہ میں نے دم کیا ہی تھا کہ وہ عورت بے ہوشی سے ہوش میں آگئی اور بولنے لگی ،کہ تم لوگ اس طرح مجھے گھیرے کیوں بیٹھے ہو؟ تب ان کے اس میرے ہمنام لڑکے نے کہا کہ اماں تین گھنٹے سے تم یہ کیا کررہی تھی؟ تو وہ حیرت و تعجب سے کہتی ہے کہ میں کیا کر رہی تھی؟ میں بس گھر ہی میں تھی اور مجھے کچھ پتہ نہیں ہے۔بہر حال یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بسا اوقات بہت سے مسلمانوں کو قرآن سے علاج کرنے کا احساس دلانے کی خاطر بعض معالج قرآنی آیات کو حرام منتروں کو پڑھنے کے دوران بآواز بلند پڑھ دیتے ہیں، لہٰذا اس امر میں محتاط رہنے کی اشد ضرورت ہے۔
 
ساحر کے جنوں کو حاضر کرنے کے طریقے
1.    قسم کھا نا:
 ساحر تاریک کو ٹھری میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد آگ جلاتا ہے۔ اور آگ میں کچھ بخورڈال دیتا ہے ۔ جب باہم دومحبت کرنے والوں کے مابین تفریق پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے یا ان دونوں کے درمیان بغض و عداوت پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس آگ میں کریہہ بدبو والا بخورڈالتا ہے۔  اور جب کچھ افراد کے درمیان محبت پیدا کرنے یا کسی عورت کا اس کے شوہر سے تعلق کاٹ کر کسی دوسرے کی محبت میں فریفتہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس آگ میں خوشبو دار بخور ڈالتا ہے۔ پھر شرکیہ منتروں کی  مالا جپتاہے۔ وہ ایسے طلسمات ہوتے ہیں ،جو جنوں کے سردار کی قسم کھانے اور اس کی تعظیم پر مشتمل ہوتے ہیں ۔  اس طریقہ کی اولین شرط یہ ہوتی ہے کہ ساحر ناپاک ہو۔  یعنی جنبی ہویا نجس کپڑا پہنا ہوا ہو ۔ ان کفر وشرک پر مشتمل منتروں کو پڑھ کر فارغ ہونے کے ساتھ ہی کتا یا ازدھا یا کسی اور دوسری شکل میں ایک جنی نمودار ہوتا ہے ، پھر ساحر اس کو جس چیز کا حکم دینا چاہے دیتا ہے۔ اور کبھی ساحر کے سامنے کچھ ظاہر نہیں ہوتا ہے بلکہ اسے ایک آواز سنائی دیتی ہے۔ اور کبھی آواز بھی نہیں سنائی دیتی ہے، تو ایسی صورت میں ساحر اپنے مطلوب شخص کے بال یا کپڑے کے ٹکڑے میں (جسے پہلے سے کسی طرح حاصل کئے رہتا ہے) گرہ باندھتا ہے، پھر وہ غائبانہ طور پر ہی جنی کو اس شخص کے سلسلہ میں حکم دیتا ہے۔
مذکورہ بالا طریقہ پر شرک کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس میں ساحر جن کی قسم کھا تا ہے جبکہ قسم صرف اللہ کی کھانی چاہئے اور جنوں سے فریاد طلب کرتا ہے۔ اور کہ بھی صرف اللہ کا حق ہے۔
2.    ذبح کرنا:
 جادو گر کوئی پرندہ ، جانور ، مرغی یاکبوتر جو جنی کی بتائی ہوئی متعین صفت کا ہوتا ہے لے آتا ہے۔  (غالبا کالے رنگ کا ہوتا ہے کیوں کہ جنوں کو کالا رنگ مرغوب ہوتا ہے۔) اور اسے اللہ کا نام لیے بغیر ذبح کرتاہے ۔ اور اسے کسی بے آباد کنویں یا ویران جگہ یا بے آباد مکان میں ڈال آتا ہے۔ اور ڈال کر واپس ہونے کے بعد شرکیہ منتر پڑھتا ہے۔ اور جنی کو اپنے مطلوب کام کا حکم دیتا ہے۔
اس طریقہ میں دو جگہ شرک صریح طور پر پایا جاتا ہے۔ ایک تو جنوں کے لئے ذبح کرنا ،جس کی حرمت پر قرآن و سنت کی صراحت ہے۔  اور علماء سلف و خلف کا اتفاق ہے۔  بلکہ وہ کھلا شرک ہے کیوں کہ جوغیراللہ کے لئے ذبح کیا گیا وہ مسلمان کیلئے حرام ہے۔  اور اس پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے : وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا '' لعن الله من ذبح لغیر الله '' (صحیح مسلم اللہ نے فرمایا :   ﴿فصل لربك وانحر۞﴾  یعنی نماز کی طرح قربانی و ذبح بھی صرف اللہ کیلئے ہونا چاہیے۔ اور ساحر کے اس عمل میں دوسرا  شرک  اس کا  شرک پر مبنی منتروں کا پڑھنا ہے۔
3.  سفلی:
 یہ طریقہ جادو گروں میں سفلی کے نام سے مشہور ہے۔ اس سفلی طریقہ والے ساحر کے شیا طین کی ایک بڑی ٹولی ہوتی ہے جو اس کی خدمت کرنے اور اس کے حکم کی تعمیل  و تنفیذ میں مصروف رہتی ہے۔  چوں کہ تمام جادو گروں میں یہ سب سے زیادہ کفر و شرک اور الحاد کا مر تکب ہوتاہے، اس طریقہ کو اپنانے والا ساحر (اس پر اللہ کی لعنت ہو) مصحف کے اوراق کو اپنے قدموں میں لپیٹتاہے، (یعنی جوتے کی جگہ استعمال کرتا ہے ) پھر بیت الخلاء میں داخل ہوتا ہے اور جنوں کو جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔ چناں چہ جنات اس کی اطاعت کرتے  ہیں۔ بلکہ اس کے ہر حکم کو عملی جامہ پہنا تے ہیں اور اس کی ہر خواہش کو پوری کرتے ہیں۔  نعوذ بالله من ذالك۔
4.   نجاست:
 اس طریقہ میں جادو گر ملعون قرآن کی کوئی سورت حیض کے خون یا دیگر کسی نجس و پلید چیز سے لکھتا ہے ۔ لعنة الله عليه۔  اس کے بعد شرکیہ طلسموں کا ورد کرتاہے ۔تو جنی نمودار ہونا ہے پھر وہ جو چاہتا ہے اسے حکم دیتا ہے۔
5.    تنکیس :
  اس طریقہ میں یہ ہوتا ہے کہ ساحر قرآن کریم کی کسی سورت کو حروف مفردہ میں الٹا لکھتا ہے۔ یعنی آخر سے لکھتا ہوا اول کی طرف آتاہے۔پھر شرکیہ طلسم یا منتر پڑھتا ہے۔ تو اس کے پاس جن حاضر ہوتا ہے ۔اور وہ اسے اپنے مطلب کے مطابق حکم دیتاہے۔
} قرآن اور شریعت کے تقدس کو پامال کرکے گویا ساحر شیاطین کو خوش کرتے اور ان کا تقرب حاصل کرتے ہیں۔ پھر وہ شیاطین ان کے برے مقاصد میں مدد کرتے ہیں ۔ قرآن میں شیاطین اور ان کے ماننے والوں کا باہمی تعاون اور ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے کا ذکر موجود ہے۔ مثلا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ویوم یحشرهم جمیعا یا معشر الجن قد استکثرتم من الانس وقال اولیا ئهم من الانس، ربنا استمتع ﴾ الآیۃ... (الأنعام:128) مدیر{
6.    تنجیم:
  اس طریقہ میں جادوگر ایک مخصوص نجم (ستارہ) کے طلوع ہونے کا انتظار کرتا ہے۔ جب وہ طلوع ہوتا ہے تو وہ اس کو مخاطب کرکے کچھ جادو منتر اور ایسے طلسموں کو پڑھتا ہے جو شرک اور کفر سے لبریز ہوتے ہیں۔  اس کے بعد وہ کچھ عجیب حرکتیں کرتاہے۔ جن سے بزعم اس کے وہ اس ستارے کی روحانیت کو نیچے اترواتا ہے۔  بہر حال اس کی ان حرکتوں کے بعد شیاطین اس کی بات پرلبیک کہتے ہیں۔ جس سے جادو گر کو یہ گمان ہوتا ہے کہ ستارے نے اس کی مددکی۔
جادو گروں کا گمان یہ ہے کہ اس طریقہ کو بروئے کار لاکر کہا جانے والا جادو، دوبارہ اس ستارے کے طلوع ہونے کے بعد ہی زائل کیاجاسکتا ہے۔ کچھ ستارے ایسے ہوتے ہیں جو سال میں صرف ایک بار طلوع ہوتے ہیں، اور ساحر لوگ کسی پر جادو کرنے یا کسی سے اسی نوعیت کے جادو زائل کرنے کی خاطر ان کے طلوع کا انتظار کرتے ہیں۔
اس طریقہ میں جو شرک اور کفر جھلک رہا ہے وہ کسی پر مخفی نہیں ہے۔ اور مذکورہ چھ طریقوں کے علاوہ اور بھی کئی طریقے ہیں جو شرک باللہ تعظیم،  لغیر اللہ اور استغاثہ بغیر اللہ پر مشتمل ہیں، لیکن افسوس آج بہت سے مسلمان ان طریقوں کو اپنا کر اپنے آپ کو جہنم کا راہی بنالیتے ہیں۔ اللہ ہم مسلمانوں کو ایسی شیطانی حرکت سے بچائے۔  (آمین)
٭٭٭٭



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook

آپ کی رائے  جان کر ہمیں خوشی ہوگی 

2 comments:

Abdullah نے لکھا ہے کہ

Masha Allah!
Bahot Khoob!
Allah Maulana Alluddin ko iss kaare khair ke badle jannat naseeb kare. Aameen.
Aaj logon ko iss kism ki guidance ki bahut zaroorat hai.

Unknown نے لکھا ہے کہ

اس قسم کی تحریروں کو عام کرنا چاہئے، تاکہ بعض ان مسلمانوں کو اس کی غلاظت اور سنگینی کا علم ہو سکے جو اپنے ہوس کی تسکین کے لئے ملعون جادوگروں کی مدد لیتے ہیں اور خود بھی لعنت کے مستحق بنتے ہیں۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔