علاء الدین ندوی.............مارچ 1999 ء
تمام
آسمانی کتابوں میں صرف ایک ہی کتاب ہے جو اپنی اصلی شکل میں محفوظ و موجود ہے۔
تمام انبیاء کی سیرتوں میں صرف آخری پیغمبر محمدﷺ کی سیرت ہے جو سب سے زیادہ مستند
اورقابل اعتبار ہے ۔ اس لئے تلاش حق کے خواہاں لوگوں کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں
ہے کہ وہ قرآن کی تعلیمات اور آخری پیغمبر کی سیرت کی طرف رجوع کریں ۔یہ دوچیزیں
خالص سر چشمہ ہدایت ہیں، اور بے آ میز شکل
میں موجود ہیں۔ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اس کو بنانے والا
، چلا نے والا ایک اور صرف ایک ہے۔ اور اسی کا نام اللہ ہے ۔ وہی حاجت روا ہے، وہی
مشکل کشا ہے، اور وہی پالنہار ہے ۔اس لئے
عبادت اور بندگی صرف اسی کی ہونی چاہئے۔ وہ اللہ ،جس نے ہر مخلوق کی جسمانی پرورش
اور ساخت و پرداخت کا انتظام کیا ہے۔ اس نے روحانی اور اخلاقی تربیت کیلئے اپنے
رسول بھیجے۔ اور ان پر اپنی کتاب اتاری ۔اور ان کے ذریعہ دنیا و آخرت میں کامیابی
کا راستہ واضح اور روشن کیا۔ اور اسی راستہ کا نام اسلام ہے ۔جو بنی نوع انسان کی
کامیابی اور ابدی سرخروئی کا ضامن ہے۔ اسلام کسی خاص گروہ یا فرقہ کے لئے نہیں آیا
بلکہ یہ نوع انسان کا مذہب ودین ہے۔ اس لئے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہر فرد بشر
خواہ اس کا تعلق کسی بھی گروہ یا مذہب سے ہو اسلام اور اس کی تعلیمات کو سمجھنے کی
کوشش کرتا پھر اسے اپنانے کی کو شش کرتا۔ لیکن
اس کے بر عکس اسلام اور اس کی تعلیمات کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔
اس کے رخ زیبا کو داغ دار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کی صورت مسخ کی جارہی ہے ۔اس
کی سنہری تاریخ کو غبار آلود کیا جارہا ہے۔ اور اس طرح عام لوگوں کو اسلام سے
متنفر کیا جارہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ
اسلام کی دولت سے مالا مال ہونے کا راستہ مسدود ہوجاتا ہے جو انسان کیلئے بڑی
محرومی کی بات ہے۔
مدتوں
سے برادران وطن کی جانب سے یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے کہ سر زمین ہند میں اسلام
تلوار کے زور سے پھیلا ۔اور آج کے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن
کے آباء و اجداد ماضی میں مسلم حکمرانوں کے ظلم و تشدد یا لالچ دلانے کے نتیجہ میں
مسلمان ہوگئے تھے۔یہ ایک ایسا پروپیگنڈہ ہے جو عام برادران وطن کے ذہنوں میں بار
بار اسے دہرا کر بٹھایا جاتا رہا ہے ۔اور غیر مسلموں کی بڑی تعداد اس پر یقین کرتی
آرہی ہے۔ اور عام غیر مسلم شہریوں کو اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی کہ اس الزام
کی حقیقت پر غور کریں ، یا مسلم اہل علم و دانشور افراد سے مل کر حقیقت حال کا پتہ
لگائیں ۔نیز مسلمانوں نے بھی اس جھوٹے الزام کی تردید عوامی سطح پر نہیں کی یہ اور
بات ہے کہ علمی سطح پر کچھ تردید بیچ بیچ میں ہوتی رہی۔
پچھلے
چند برسوں سے یہ مسلم مخالف پروپیگنڈا کچھ زیادہ ہی زور شور سے کیا جاتا رہا ۔اور
آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ مگر یہ یا اس قسم کی بات زیادہ تر مرلی منوہر جوشی ،
اشوک سنگھل ، اومابھارتی اور انہی جیسے غیر سنجیدہ اور انہیں کے ہم پیالہ و ہم
نوالہ لیڈروں کی زبان سے سنی جاتی رہی ،جس کا مسلمانوں نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔
لیکن اب اس مضحکہ خیز الزام کی صدائے باز گشت پروفیسر راجندر سنگھ ( عرف راجو
بھیا) جیسے ذمہ دار شخص کی زبان سے بھی سنائی دینے لگی ہے۔ انتہائی حیرت کی بات ہے
ایک پڑھا لکھا شخص اس قدر گھٹیا و بے بنیاد بات کیسے کہہ دیتا ہے؟ کیا عقل و خرد اور علم کا یہی تقاضہ ہے کہ ایک
بے بنیاد بات کو بغیر سوچے سمجھے بیان کر دیاجائے؟ سچی بات تو یہ ہے کہ عقل و خرد
اور علم اس قسم کی بات کے مخالف ہے لیکن کبھی تعصب و دشمنی پڑھے لکھے کو اندھا
بنادیتی ہے۔
پروفیسر
صاحب آرایس آیس کے سب سے بڑے لیڈر ہیں ، پڑھے لکھے بھی ہیں سینئر بھی۔ لیکن جناب
نے اپنی شخصیت اور مقام کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گذشتہ پانچ جنوری کو مہاراشٹر کے
شہر آکولہ میں منعقد ایک تقریب میں اپنے ماتحت سر پھرے اور غیر سنجیدہ لیڈر وں کی
اسی بے بنیاد بات کو دہرایا اور انہوں نے یہ تک بھی نہ سوچاکہ محفل میں پڑھے لکھے
اور سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد بھی ہوں گے۔ ہوسکتا ہے کہ پروفیسر صاحب کے دماغ
میں یہ بات رہی ہو کہ غور وفکر کون کرتاہے؟کس کو اتنی فرصت کہ وہ اس بات کی تحقیق
کرتا پھرے گا؟ اور تاریخ کی ورق گردانی کرکے حقیقت کا پتہ لگائے گا؟ ویسے یہ خیال تو غیر مسلموں میں اتنا عام ہے کہ لوگ
سن لیتے ہیں اور یقین کرلیتے ہیں یا کم از کم خاموش رہ جاتے ہیں۔ اسی بنا پر موصوف
نے بلا کسی تردد کے اسلام کے سلسلہ میں یہ بات کہی ہوگی۔ لیکن کیا ان جیسے پڑھے
لکھے لوگوں کو یہ زیب دیتا ہے کہ بلا دلیل کسی بھی موقع سے کوئی بھی بات کہہ دے ؟
اگر ماضی کے لوگ اپنی مرضی کے خلاف جبروتشدد ، ظلم و ستم، یا لالچ کی بنا پر
مسلمان ہوئے تھے، تو کیا وجہ ہے آج بھی ان کی اولاد کروڑوں کی تعداد میں اسی دین
سے چمٹی ہوئی ہے؟ آج ان کے لئے کون سی مجبوری ہے؟ان کے سروں پر آج کون سی تلوار
اٹھی ہوئی ہے؟ بلکہ اس کے برخلاف اس دین سے وابستگی کی وجہ سے ان کو جبروتشدد اور
ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ آئے دن نت نئی مشکلات سے دوچار ہوتے رہتے ہیں ۔اور ان کو
یہ احساس بھی دلایا جاتا ہے کہ یہ ساری مشکلات و پریشانیاں دین اسلام پر جمے رہنے
کے نتیجہ میں ہیں۔ اگر وہ اس دین کو چھوڑدیں تو ساری پریشانیاں کافور ہوجائیں گی۔
مگر ان سب کے باوجود وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے ۔ کیا یہ صورت حال راجو بھیا اور ان کے
ہم نواؤوں کی جانب سے اسلام پر لگائے جارہے الزام کے سفید جھوٹ ہونے کی تصدیق نہیں
کرتی؟
اسلام
ہماری یا کسی کی بھی ذاتی میراث نہیں ہے۔ بلکہ یہ تمام اولاد آدم کا مشترکہ سرمایہ
حیات ہے جو کائنات کی فلاح ،کامیابی و کامرانی کیلئے خالق کائنات کے بتائے ہوئے
اصولوں پر مشتمل ہے۔ اسی میں دنیا کے تمام مسائل کا حل ہے۔ اور اسی پر آخرت کی
زندگی کی نجات منحصر ہے۔ اس لئے وہ ہر انسان کی ضرورت ہے۔ ہر انسان کو ٹھنڈے دل سے
اس کی تعلیمات پر غور کر نے کی ضرورت ہے۔ تاکہ اسلام کی لازوال میراث میں اسے حصہ
مل سکے۔ اور اپنی پیشانی کو معبودان باطلہ اور سیکڑوں دیوی و دیوتاؤں کے سامنے
رگڑنے سے بچ جائے ۔جس میں وقت اور مال کی ضیاع کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
جس
کا ذکر سابق سطور میں کیا گیا صرف یہی ایک الزام اسلام پر نہیں لگایا جارہا ہے
بلکہ اسی طرح کے دسیوں الزامات ہیں جو براد ران وطن کی جانب سے لگائے جاتے ہیں جن
کا مقصد دینی کم اور سیاسی زیادہ ہوتاہے۔
ہماری کوتاہی
انگریزوں
کے زمانے کے غلام ہندوستان میں اور اس کے بعد آزاد ہندوستان کی نصف صدی کی مدت میں
مسلمانوں کی محرومی و مظلومی کی داستان یکساں رہی ہے۔ ( بے شمار شہیدوں کے خون سے
لالہ زار ہوئے فسادات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ) اگر مسلمانوں نے اپنی ذمہ داری
پوری کی ہوتی اور توحید ، رسالت اور آخرت کی دعوت لے کر اٹھ کھڑے ہوتے تو صورت حال
یہ نہ ہوتی ۔ نہ اسلام کے خلاف الزام تراشی ہوتی اور نہ ہی مسلمانوں کے خون سے
ہولی کھیلی جاتی۔ لیکن افسوس کہ ہم مسلمان خود غفلت و کاہلی کا شکار ہیں۔ ہم
اسکولوں ، کالجوں ، آفسوں اور دکانوں نیز تجارتی معاملوں اور کھیل کود کے میدانوں
میں برادران وطن سے ملتے رہتے ہیں ۔ دوستانہ ماحول میں باتیں کرتے رہتے ہیں۔ اور
بہت سے معاملوں میں باہم گفتگو کرتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر مشورہ لیتے اور دیتے ہیں،
لیکن ان کو ہم اپنے دین سے متعارف نہ کراسکے۔ اسلام کا تعارف پیش نہ کرسکے۔ اور اسکی حقانیت
واضح نہ کرسک۔ حالانکہ امت مسلمہ کے ہر
فرد کی یہ ذمہ داری تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج برادران وطن کی جانب سے اسلام کے خلاف
بدگمانیاں پھیلائی جارہی ہیں ۔اور اس کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
مسلمانوں نے اگر فریضۂ دعوت کو اپنی زبان
اور اخلاق و کردار کے ذریعہ ادا کیا ہوتا تو صورت حال یقینا مختلف ہوتی ۔ ہمارا
اسلام لاکھ صحیح ہو، اس کے اندر کتنی ہی خوبی کیوں نہ ہو اور اس کی خوشبو دنیا کو
معطر کرنے کی صلاحیت خواہ کتنی رکھے ،اور اس کی ضیا پاش روشنی میں دنیا کو منور
کرنے کی طاقت خواہ کتنی ہی تگڑی کیوں نہ ہو ، اگر ہم نے اس کو بند کوٹھیوں میں بند
کررکھا ہے اور مساجد و مدارس یا اپنے گھروں تک محدود رکھا ہے تو گرد وپیش میں اس
کی مہک کیسے پھیلے گی ؟ اور اس کی روشنی دنیا کو منور کیسے کرے گی ؟ سچی بات تو یہ
ہے کہ اسلام پر آئے دن لگنے والے الزامات کیلئے ماحول تیار کرنے میں ہمارا حصہ بھی
کم نہیں ہے۔ ہم نے جہاں دعوت دین کو فراموش کرکے اپنے خلاف ماحول بننے کا موقع
فراہم کیا ،وہیں اپنے غلط کردار اسلام سوز، دین سوز اور اخلاق سوز رول ادا کرکے غیر
وں کو اسلام سے بد ظن کیا اور اسلام کی بد نما تصویر پیش کی۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ
اگر ہم میں کا ہر شخص نہیں تو قابل ذکر تعداد نے اگر دعوت الی اللہ کے فرض منصبی
کو ادا کیا ہوتا، اور غیر مسلموں میں اسلام کے تعارف کا بیڑ ا اٹھایا ہوتا تو ممکن
نہیں تھا کہ بڑی تعداد میں ایسی سعید روحیں نہ مل جاتیں جو اس پیغام حق پر لبیک
کہنے پر آمادہ ہوتیں اور اس ملک میں اسلام کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں کمی آتی۔
لیکن ہماری مسلسل کوتاہی نے ایک طرف ہمیں اللہ کی مہربانی اور شفقت و نصرت سے
محروم کیا اور دوسری طرف برادران وطن کی نگاہوں میں ذلیل و خوار کیا۔
جب
بھی مسلمانوں نے فریضۂ دعوت کی ادائیگی میں غفلت برتی اس کا خمیازہ انہیں بربادی
کی شکل میں اٹھانا پڑا ۔ان کا وجود تک وہاں سے مٹ گیا اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت
اندلس کی تاریخ ہے ۔ جہاں مسلمانوں کے بڑے بڑے علماء و فضلاء تھے ۔ اور وہاں ادباء
و اہل دانش کی فراوانی تھی۔ اہل حل و عقد کی کوئی کمی نہیں تھی۔ وہاں پر اسلامی تہذیب و ثقافت اوج کمال کو پہونچی
ہوئی تھی ۔ الغرض وہاں سب کچھ تھا لیکن مقامی آبادی تک دعوت دین پہنچانے کا کام
بند تھا۔ جس کا نتیجہ کیا ہوا وہ سب کو معلوم ہے۔
اللہ
سے دعاء ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو دعوت دین عام کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور
اسلام کی صحیح نمائندگی کرنے کی توفیق اور جذبہ دونوں عطاء فرمائے۔ .......(آمین)
٭٭٭٭٭
۞۞۞
LIKE↓& SHARE↓ it on Facebook
۞۞۞
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔