اسلامی شریعت میں جادو کا حکم
۳۰ ۔دسمبر ۱۹۹۹
امام مالک رحمہ اللہ جادو گر
کو قتل کرنے کے قائل ہیں ۔ ابن قدامہ ؒ فرماتے ہیں کہ ساحر کی حد قتل ہے ،
اس سلسہ میں انہوں نے حضرت عمرؓ حضرت عثمانؓ ، ابن عمر ، ام المع منین حضرت
حفصہؓ، حضرت جندب بن عبداللہؓ، جندب بن کعبؓ، قیس بن سعدؓ، اور عمر بن
عبدالعزیزؒ سے روایت نقل کی ہے، نیز امام ابو حنیفہؒ کا بھی یہی قول ہے۔
قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
مسلم اور ذمی ساحر کے حکم کے سلسلہ میں فقہاء کا اختلاف ہے امام مالک
کامذہب یہ ہے کہ مسلم اگر ایسے کلمات سے جادو کرتا ہے جو کفر پر مشتمل ہوں
تو اسے قتل کردیا جائے گا اور اس کی توبہ قابل قبول نہ ہوگی۔ کیونکہ اللہ
تعالیٰ نے سحر کو کفر کا نام دیا ہے جیسا کہ اس کا فرمان ہے (وما یعلمان من أحد حتی یقولا نما نحن فتنۃ فلاتکفر) یہی مذہب امام حمد بن حنبل، امام اسحاق، امام شافعی اور اما ابو حنیفہ رحمہم اللہ کا ہے۔
ابن المنذرؒ کہتے ہیں کہ : اگر
آدمی یہ اعتراف کرلے کہ اس نے کفر پر مشتمل کلمات سے جادو کیا ہے تو اس کا
قتل واجب ہوگا، اس طرح اگر وہ اعتراف نہ کرے لیکن قائن و شواہد سے اس کی
نشاندہی ہو تو بھی اسے قتل کیا جائے گا۔ اور اگر اس کے جادو کے کلمات کفر
پر مشتمل نہ ہوں تو قتل کرنا جائزنہ ہوگا۔
حافظ ابن کثیر ؒ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے ساحر کی تکفیر کی انہوں نے اللہ کے قول‘‘ ولو انھم آمنوا واتقوا’’
سے استدلال کیا۔ جیسا کہ مام احمد بن حنبلؒ اور سلف میں ایک جماعت کی رائے
ہے۔ اور بعض دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کی تکفیر تو نہیں کی جائے گی
لیکن اس کی گردن ماردی جائے گی، کیونکہ امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ
نے کہا کہ ‘‘ أخبرنا
سفیان (ھوابن عیینہ) عن عمر وبن دینار أنہ سمع بجلۃ بن عبدۃ یقول : کتب
عمر بن خطابؓ أن اقتلوا کو ساحر و ساحرۃ، قال فقتلنا ثلاث سواحر’’ یعنی
عمر بن خطاب نے لکھ کہ ہر جادو گر اور جادو گرنی کو قتل کردو، بجلہ کہتے
ہیں کہ ہم لوگوں نے تین جادو گرنیکو قتل کیا۔ نیز حافظ ابن کثیر ؒ کہتے ہیں
کہ امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں روایت کی ’’وھکذا صح أن حفصۃ ام المؤمنین
سحرتھا جاریۃ لھا فأمرت بھا فقتلت‘‘ یعنی صحیح طور پر یہ بات ثابت ہے ام
المؤمنین حضرت حفصہؓ پران کی ایک باندی نے جادو کیا، تو اسے قتل کرنے کا
حکم دیا گیا چنانچہ وہ قتل کردی گئی۔ امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ : نبیؐ کے
صحابؓ میں سے تین سے صحیح طور پر قتل ساحر کا حکم ثابت ہے۔
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ :
ساحر کا وہی حکم ہے جو زندیق کا ہے، اس کی تو بہ قبول نہیں کی جائے گی اور
اس کی حد قتل ہے، امام احمدؒ کا بھی یہی قول ہے۔ اوپر مذکور تفصیل سے یہ
بات واضح ہوگئی کہ جمہور علماء ساحر کے قتل کے قائل ہیں سوائے امام شافعی
کے، جن کا مسلک یہ ہے کہ اگر ساحر نے بزریعہ سحر کسی کو مارڈالا ہے تو قصا
صاً اسے قتل کیا جائے گا ورنہ نہیں۔
کیا جادو کے ذریعہ جادو کا اثر
زائل کرنا جائز ہے؟ قرطبیؒ کہتے ہیں کہ سحر زدہ سے اثر دور کرنے کیلئے
ساحر کا سہارالینا جائز ہے یا نہیں اس بارے میں اختلاف ہے۔ حضرت سعید بن
مسیب کے نزدیک جائز ہے اور مزنی بھی اسی طرف مائل ہیں، اور شعبی نے کہا ’’ لا بأس بالنشرۃ العربیۃ ‘‘ یعنی عربی منتر سے علاج کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور حسن بصریؒ اس کے مکروہ ہونے کے قائل ہیں۔
ابن قدامہؒ کہتے ہیں کہ جادو
کا علاج قرآن کی آیتوں، دعاء مأثور، یا ذکر و اذکار کے ذریعہ کرنے میں کوئی
مضائقہ نہیں ہے ہاں اگر جادو سے جادو کا علاج کیا جائے تو وہ درست نہیں
اور احمد بن حنبل نے اس پر توقف کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : النشرۃ من عمل الشیطان (احمد ابوداؤد) یعنی منتر پھونکنا شیطان کا عمل ہے۔
‘‘ النشـــــــــــــرۃ’’ علاج
کی ایک قسم ہے جس کے ذریعہ اس شخص کا علاج کیا جاتا ہے جس کے بارے میں
جادو یا مس جن کا گمان ہو۔ حدیث مذکور سے تو بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ
نشرۃ شیطان کا کام ہے لیکن شارحین حدیث کے مطابق ’’نشرۃ‘‘ کی دو قسمیں ہیں۔
ایک جائز نشرۃ اور وہ یہ ہے کہ جادو کا علاج قرآن، دعاؤں اور مشروع اذکار
سے کیا جائے اور دوسرا حرام نشرۃ اور وہ یہ ہے کہ جادو یا مس جن کا علاج
جادو سے کیا جائے، جس میں شیاطین سے فریاد طلب کی جاتی ہے اور ان کو راضی
کیا جاتا ہے۔ اور حدیث مذکور میں یہی دوسری قسم مقصود ہے۔ نشرۃ (علاج کا طریقہ) کی یہ دوسری قسم کیونکر جائز ہو سکتی ہے جبکہ حضورؐ نے جادو گرون اور کاہنوں کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے۔
ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ نشرۃ (جادو اتارنے کا طریقہ) دو ہیں۔ (۱) جادو سے جادو کی کاٹ کرنا۔ یہی شیطان کا عمل ہے، اور حسن بصری کے قول : یتقرب النشر والمنتشر الی الشیطان ‘‘ یعنی جادو کے ذریعہ علاج کرنے اور کروانے والا دونوں شیطان کے قریب ہوتے ہیں) سے یہی قسم مراد ہے اور یہ حرام ہے۔ (۲) تعوذات، أدعیہ و اذکار اور مبح کلمات سے علاج کرنا۔ یہ جائز ہے۔
ساحر کو پہچاننے کی علامتیں :
مندرجہ ذیل علامتوں میں سے ایک علامت بھی اگر کسی معالج کے اندر پائی جائے
تو بلاشبہ وہ ساحر (جادوگر) ہوگا۔ (۱) مریض سے اس کا اور اس کی ماں کا نام پوچھیگا۔ (۲)مریض سے اس کا کپڑا، ٹوپی یا رومال لیگا۔ (۳)مخصوص
اوصاف کا جانور طلب کریگا پھر اسے اللہ کانام لئے بغیر ذبح کریگا اور بسا
اوقت مریض کی تکلیف والی جگہ پر اس کا خون لگائے گا، یا اس کوذبح کرنے کے
بعد کسی ویران جگہ میں ڈال آئیگا۔(۴)کچھ طلسموں کو تھریر کریگا۔ (۵)نہ سمجھ میں آنے والے منتر یا طلسم پڑھیگا۔ (۶)مریض کو طوکور پردہ دیگاجس میں کچھ حروف یا نمبر لکھے ہوں گے۔ (۷)مریض کو ایک متعین مدت تک لوگوں سے الگ تھلگ ہوکر ایسے کمرے میں رہنے کا حکم دیگا جس میں سورج کی روشنی یا دھوپ نہ داخل ہوتی ہو۔ (۸)کبھی مریض کو چالیس دن تک پانی چھونے سے منع کریگا۔ (۹)مریض کو زمین میں دفن کرنے کیلئے چند چیزیں دیگا۔ (۱۰)مریض کو چند اوراق دیگا جنہیں جلا کر دھونی لینے کی فرمائش کریگا۔ (۱۱)کبھی مریض اور اس کے شہر یا گاؤن کا نام بتائے گا اور اس تکلیف کی نشندہی کریگا جس کی وجہ سے مریض اس کے پاس گیا ہوگا۔ (۱۲)مریض کے لئے ایک ورقہ میں حروف مقطعہ تحریر کر یگا یا مٹی کے کٹورے میں اسے لکھے گا اور اسے پگھلا کر مریض کو پینے کا حکم دیگا۔
اگر آپ کو پتہ چل جائے کہ
معالج جادو گر ہے تو اس کے پاس جانے سے گریز کرنا ضروری ہے، اگر پتہ چلنے
کے بعد بھی آپ نے گریز نہیں کیا تو حضورؐ کا درج ذیل قول آپ پر منطبق ہوگا
‘‘من أتی کاھنا فصدقہ بما یقول فقد کفر بما أنزل علی محمدؐ ’’ (رواہ البزار وھو حدیث حسن) جو کسی کاہن کے پاس آئے اور اس کی بات کی تصدیق کرے تو اس نے محمدؐ پر نازل کردہ چیز (قرآن و شریعت ) کا انکار (کفر) کیا۔
کیا جادو سیکھنا جائز ہے؟ حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں کہ اللہ کے قول (انما نحن فتنۃ فلا تکفر) میں اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ جادو کا سیکھنا کفر ہے (فتح الباری)۔
ابن قدامہؒ فرماتے ہیں جادو کا
سیکھنا اور سکھا نا حرام ہے اور اس معاملہ میں اہل علم کے درمیان میرے علم
کے مطابق کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہمارے اصحاب (حنابلہ) کا مذہب یہ ہے کہ جادو سیکھنے اور کرنے سے آدمی کافر ہوجائے گا خواہ وہ اس کی حرمت کا اعتقاد رکھتا ہو یا اباحت کا۔
ابوعبداللہ رازیؒ نے کہا کہ
جادو کا سیکھنا نہ تو قبیح ہے اور نہ ہی ممنوع اسی پر محققین کا اتفاق بھی
ہے۔ کیونکہ علم اپنی ذات میں ایک عمدہ چیز ہے۔ اور اس لئے بھی کہ اللہ کے
قول (ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون)
میں عموم ہے، اور اس لئے بھی کہ اگر سحر کا علم نہیں ہوگا تو اس کے اور
معجزہ کے درمیان فرق ممکن نہ ہوگا۔ اور معجزۃ کے معجزہ ہونے کا علم واجب
ہے، اور واجب جس پر موقوف ہو وہ بھی واجب ہوتا ہے۔ لہذا جادو کا علم حاصل
کرنا واجب ہے۔ اور جو چیز واجب ہے وہ حرام یا قبیح کیسے ہو سکتی ہے؟۔
حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں رازی کی مذکورہ بالا عبارت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ رازی کے اس کلام میں چند وجوہ سے اشکال پیدا ہوتا ہے۔
حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں رازی کی مذکورہ بالا عبارت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ رازی کے اس کلام میں چند وجوہ سے اشکال پیدا ہوتا ہے۔
۱۔
ان کے قول ’’سحر کا علم قبیح نہیں ہے‘‘ سے ان کی مراد اگر عقلی قباحت ہے
تو معتزلہ ان کے مخالف ہیں اور اگر ان کی مراد شرعی قباحت ہے تو اس آیت
کریمہ (واتبعوا ماتتلوا الشیاطین علی ملک سلیمان)میں تعلم سحر کی قباحت واضح ہوچکی ہے، نیز صحیح روایت میں ہے ‘‘من اتی عرافا او کاھنا فقد کفر بما انزل علی محمد ’’ (رواہ البزار باسانید حسنۃ) جو قیافہ شناس یا کاہن کے پاس ‘یا
اس نے اس چیز کے ساتھ کفر کیا جو محمدؐ پر نازل کی گئی۔ اور جہاں تک امام
رازی کے اس قول کا تعلق ہے کہ ’’محققین کا اس پر اتفاق ہے کہ جادو سیکھنا
ممنوع نہیں ہے ’’تو مذکورہ بالا آیت اور حدیث سے محققین کے اتفاق کا امکان
ہی ختم ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے خلاف ’’محققین‘‘کے پاس کوئی نص موجود نہیں
ہے، اور جہاں تک اللہ کے قول (ھل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون)
کے عموم میں سحر کو داخل کرنے کا تعلق ہے تو ان کے اس قول میں زبردست
اشکال ہے کیونکہ یہ آیت علم شرعی کے جاننے والوں کی مدح پر دلالت کرتی ہے۔
سحر اور معجزہ میں تمیز کرنے کیلئے سحر کا علم ضروری ہے، ان کا یہ خیال
ضعیف ہی نہیں بلکہ فاسد و باطل ہے، کیونکہ ہمارے نبیؐ کا سب سے بڑا معجزہ
قرآن کریم ہے اور قرآن کی شان ہی یہ ہے کہ لا یأتیہ الباطل من بین بدیہ ولا
من خلفہ تنزیل من حکیم حمید۔
پھر یہ ایک بدیہی امر ہے کہ
صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ ، اور ائمہ مسلمینؒ معجزات کو اچھی طرح سمجھتے
تھے اور معجزہ وغیر معجزہ کا فرق جانتے تھے جبکہ وہ جادو نہیں جانتے تھے
اور نہ ہی وہ سیکھتے اور سکھا تے تھے۔ خلاصہ یہ کہ جادو کا علم حاصل کرنا
حرام ہے کیونکہ جادو کی اولین شرط غیر اللہ سے فریاد رسی اور جن و شیاطین
سے استغاثہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو جادو سیکھنے سے بے نیاز رکھے
اور جادوگروں سے اپنے امراض کے علاج کرانے سے محفوظ رکھے۔(آمین)
۞۞۞
LIKE↓& SHARE↓ it on Facebook
۞۞۞
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔