جادو کا علاج

جادو کا ابطال



مارچ ۔ اپریل  2000ء
پچھلے کئی شماروں میں جادو گر اور جادوگر کا شیطان سے خصوصی تعلق اور جادو کے مختلف اقسام پر روشنی ڈالی گئی، اب ان شاء الله میں جادو کے مختلف انواع کا مسحورین (سحر زدہ افراد ) پر مرتب ہونے والے مضر اثرات ، اور قرآن و سنت اور دعاء و اذکار کے ذریعہ ان اثرات کو ختم اور زائل کرنے کی صورتوں پر روشنی ڈالوں گا :
اس سلسلہ میں میں یہ واضح کردینا مناسب سمجھتا ہوں کہ قراء کو اس سلسلہ میں کچھ ایسی چیزیں (باتیں) بھی نظر آسکتی ہیں جو نبی کریم ﷺسے براہ راست کسی نص سے ثابت نہیں ہیں لیکن وہ ان قواعد عامہ سے منسلک ہیں جو قرآن و حدیث سے ثابت ہیں مثال کے طور پر آپ دیکھیں گے کہ کتاب الله کی کوئی آیت یا مختلف سورتوں کی بہت سی آیتیں علاج سحر میں میں نے پیش کیں، جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے علاج کے سلسلہ میں کوئی نص وارد نہیں ہے اس قسم کی تمام آیتیں الله کے قول ’’ وننزل من القرآن ما ھو شفاء و رحمۃ للمومنین‘‘ کے تحت مندرج ہیں اس لئے چوں و چرا کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے۔ بعض علماء نے اگرچہ یہاں شفاء سے معنوی (شک، شرک اور فسق وفجور سے شفاء ) مراد لیا ہے۔  لیکن بعض دیگر علماء نے شفاء معنوی اور شفاء حسی دونوں مراد لیا ہے۔ یہاں شفاء حسی مراد ہونے کی ایک دوسری دلیل بھی ہے جو زیادہ واضح، اقرب اور اس باب میں زیادہ قابل اعتماد ہے۔ اور وہ یہ ہے : عن عائشۃ ان رسول الله دخل علیھا و امراۃ تعالجھا و ترقیھا فقال ﷺ عالجیھا بکتاب الله : یعنی حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ ان کے یہاں تشریف لائے اس حال میں کہ ایک عورت کچھ پڑھ کر ان کا (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) علاج کررہی تھی تو آپ نے فرمایا کہ الله کی کتاب سے علاج کرو، اس حدیث کو علامہ البانی نے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ (ح: 1931) میں صحیح قرار دیا ہے۔ اس حدیث پر گہری نظرڈالئے تو معلوم ہوگا کہ آپ ﷺ نے عام بات کہی۔ اور متعین آیتوں یا سورتوں کی تخصیص نہیں فرمائی۔ جس سے یہ حقیقت بے نقاب ہوگئی کہ قرآن کل کا کل شفاء ہے۔
سوال ضرور ابھرے گا کہ علاج کے سلسلہ میں جو بھی آیت میں پیش کررہا ہوں اس کی دلیل بھی میں نے کیوں پیش نہیں کی، یا اس وقت تک ہم کسی آیت سے علاج کیسے کریں۔ جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے کوئی صریح نص مروی نہیں ہے؟  تو اپنے بھائیوں کے اطمینان کے لئے میں اس حدیث کو کافی سمجھا ہوں جسے امام بخاری نے صحیح بخاری  میں روایت کی جس کا تر جمہ ہے : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہ کی ایک جماعت کے ساتھ سفر میں تھے کہ وہ لوگ عرب کی وادیوں میں سے ایک وادی میں اترے۔اور ان لوگوں نے اس وادی کے باشندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی مہمان نوازی کریں، تو اہل وادی نے مہمان نوازی سے انکار کردیا۔، پھر ہوا یہ کہ وہاں کے سردار کو ڈس لیا گیا (یعنی سانپ یا بچھو نے ڈس لیا) ۔ تو وہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہ کی اس جماعت کے پاس آئے اور دریافت کیا کہ تم لوگوں میں کوئی منتر پڑھنے والا ہے؟ تو ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں، میں ہوں لیکن اس شرط پر پڑھوں گا کہ تم اس پر جعل (عوض) مقرر کرو ۔ چناں چہ ان لوگوں نے شرط مان لی۔ اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کچھ پڑھ کر دم کیا ہی تھا کہ سردار شفاء پاگیا۔ تو ان لوگوں نے ایک گلہ بکریوں کا عطاکیا۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب لوٹ کر آئے اور حضورﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم نے کیا پڑھ کر علاج کیا؟  تو ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا سورہ فاتحہ پڑھ کر۔ آپ نے پوچھا کہ تمھیں کیسے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ منتر ہے؟ پھر نبی کریم ﷺ نے ان کو نہیں ٹوکا۔ اس حدیث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نے علاج کے سلسلہ میں نبی کریم ﷺ سے نص ثابت ہونے کا انتظار نہیں کیا بلکہ قاعدہ عامہ پر اعتماد کرکے سورہ فاتحہ سے علاج کیا اور بعد میں نبی ﷺ نے اسے ثابت رکھا ۔
نبی کریمﷺ نے رقیہ (منتر ) کے سلسلہ میں ایک عام قاعدہ بیان فرمایا: صحیح مسلم میں ہے کہ کچھ لوگوں نے نبیﷺ سے عرض کیا : ائے الله کے رسولﷺ ! ہم لوگ جاہلیت کے زمانہ میں کچھ منتر پڑھ کر علاج کیا کرتے تھے۔ (ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اب ہم حالت اسلام میں وہ منتر پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟) تو حضورﷺ نے فرمایا : کہ تم اپنے ان منتروں کو میرے سامنے پیش کرو اس منتر میں کوئی مضائقہ نہیں جس میں شرک نہ ہو۔
اس حدیث سے کتاب الله، حدیث ، ادعیہ و اذکار کے ذریعہ علاج کرنے کا جواز ملتا ہے یہاں تک کہ جاہلی دور کے ان منتروں کا جواز بھی ملتا ہے جن میں شرک نہ پایا جاتاہو۔


سحرتفریق

فرمان خداوندی ہے : ﴿
واتبعوا ماتتلوا الشیاطین علی ملک سلیمان ....الی قوله... لو کانوا یعلمون ]البقرۃ: 102[
ترجمہ: اور وہ اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین حضرت سلیمان کی حکومت پر پڑھتے تھے۔ سلیمان ؑ نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا وہ لوگوں کو جادو سکھا یا کرتے تھے، اور بابل میں ہاروت وماروت نامی دو فرشتوں پر جو اتارا گیا تھا ۔ وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر۔ پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جو خاوند و بیوی میں جدائی ڈال دے۔ دراصل وہ بغیر الله کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے۔ وہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور وہ بدترین چیز ہے جس کے بدلہ میں وہ اپنے آپ کو فروخت کررہے ہیں کاش کہ یہ جانتے ہوتے۔ 

سحر تفریق کا ثبوت قرآن سے پیش کرنے کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ثبوت حدیث سے بھی پیش کیا جائے:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : انہوں نے کہا کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ ابلیس اپنا عرش پانی میں رکھ دیتا ہے پھر وہ اپنے دوستوں کو بھیجتا ہے اور اس سے سب سے زیادہ درجہ میں قریب وہ ہوتا ہے جو سب سے پڑا فتنہ برپا کرنے والا ہو تا ہے چنانچہ بھیجے گئے شیطانوں میں ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے ایسا اور ایسا کیا اس طرح وہ اپنی پوری کار گذاری بیان کرتا ہے تو ابلیس کہتا ہے کہ تم نے کچھ نہیں کیا، پھر ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اسے نہیں چھوڑا یہاں تک کہ اس کے درمیان اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کردی آپﷺ فرماتے ہیں کہ الیس اس کو قریب کرتا ہے اور کہتا ہے ہاں تم نے کام کیا، حضرت اعمش کہتے ہیں مجھے لگتا ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ابلیس اس سے چمٹ جاتا ہے۔ ]رواہ مسلم[
سحر تفریق کی تعریف :  زوجین کے درمیان تفریق پیدا کرنے، یا دو دوست یا دو شریک کے مابین بغض اور ناگواری پیدا کرنے کے لئے عمل ِسحر کرنے کو سحر تفریق کہتے ہیں۔
سحر تفریق کی اقسام :۔ سحر تفریق کی چھ قسمیں ہیں جو حسب ذیل ہیں:
1.    لڑکے اور ماں کے درمیان تفریق
2.    لڑکے اور باپ کے درمیان تفریق
3.    بھائی اور بھائی کے درمیان تفریق
4.    دوست اور دوست کے درمیان تفریق
5.    تجارت وغیرہ میں ہم شریک کے درمیان تفریق
6.    شوہر اور بیوی کے درمیان تفریق    (یہ آخری قسم سب سے زیادہ خطرناک اور انسانی معاشرہ میں سب سے زیادہ عام ہے۔ )
سحر تفریق کا عارضہ
  سحر تفریق کا عارضہ حسب ذیل صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔
·         حالات کا محبت سے بغض و نفرت میں اچانک تبدیل ہوجانا۔
·         دوفریق کے درمیان شکوک و شبہات کی کثرت ۔
·         اسباب اختلاف کا حقیر اور معمولی ہونے کے باوجود عظیم نظر آنا۔
·         بیوی کی نگاہ میں شوہر کی صورت تبدیل ہونا اور شوہر کی نگاہ میں بیوی کی صورت تبدیل ہونا۔
·         یعنی اس عارضہ میں شوہر اپنی بیوی کو قبیح دیکھتا ہے اور بیوی کی شکل و صورت اس کو بالکل نہیں بھاتی خواہ وہ کتنی خوبصورت ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہی حال بیوی کی نگاہ میں شوہر کا بھی ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ساحر جس شیطان کو سحر تفریق کا موکل بناتاہے، وہی شیطان بیوی کے سامنے قبیح صورت میں نمودار ہوتا ہے جو اس کے شوہر کا حلیہ اختیار کئے ہوئے ہوتا ہے تو بیوی کو وہ خوفناک اور دہشت ناک نظر آتاہے۔
·         سحر زدہ کاہر اس عمل کو ناپسند آنا جسے دوسرا فریق انجام دے۔
·         سحر زدہ کو اس جگہ سے کراہیت ہونا جس جگہ میں دوسرا فریق بیٹھتا ہو ۔ چنانچہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کو گھر سے باہر اچھا اور عمدہ دیکھتی ہے لیکن جب وہ گھر میں داخل ہوتا ہے تو وہ کیفیت باقی نہیں رہتی ہے۔
حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ زوجین کے مابین سحر کے ذریعہ تفریق پیدا ہونے کا سبب یہ ہے کہ بیوی کو شوہر بدنما و بد صورت نظر آنے لگتا ہے یا شوہر کو بیوی بدصورت و بد خلقت نظر آنے لگتی ہے جو تفریق کا باعث بنتا ہے۔
سحر تفریق کس طرح وجود میں آتا ہے؟ :
 آدمی جادو گر کے پاس جاتا ہے اور اس سے درخواست کرتا ہے کہ وہ فلاں اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کردے چنانچہ ساحر (جادوگر) کہتا ہے کہ مجھے اس آدمی کا نام اور ا س کی ماں کا نام بتادو، پھر وہ اس سے کہتا ہے مجھے اس آدمی کی کوئی نشانی مثلاً بال، کپڑا، یا ٹوپی وغیرہ لا کر دو، اگر وہ کوئی چیز لاکر دیتا ہے تو ساحر اس میں عملِ سحر کرتا ہے اور وہ ان میں سے کوئی چیز لانے کی استطاعت نہیں رکھتاہے تو ساحر پانی ہی پر عمل کرتا ہے اور اسے حکم دیتا ہے کہ اس پانی کو سحر کے مطلوب شخص کی گذر گاہ پر ڈال دے، چنانچہ جب وہ وہاں سے گذر تا ہے تو اس پر سحر کا اثر ہوجاتاہے یا اگر ممکن ہو تو مطلوب سحر کے کھانے کی چیز یا مشروب میں ملانیکا حکم دیتا ہے جس کے استعمال کرتے ہی وہ سحر زدہ ہوجاتا ہے۔
علاج:
 سحر تفریق کے علاج کے تین مراحل ہیں
پہلا مرحلہ:
علاج شروع کرنے سے پہلے کا مرحلہ ہوتا ہے ، جو مندرجہ ذیل امور پرمشتمل ہے:
      ×             صحیح ایمانی فضا تیار کرنا مثلا ان تصاویر کو اس گھر سے نکلوانا جس میں علاج کرنا ہے جن کی وجہ سے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ تاکہ ان کے نکل جانے کے بعد فرشتے داخل ہوں۔
      ×             مریض کے پاس اگر تعویذ ، گنڈا وغیرہ ہوں تو نکال کر جلا نا ۔
      ×             گانے اور باجے سے گھر خالی کرنا۔
      ×             گھر کو شریعت مخالف چیزوں سے خالی کرنا مثلاً گھر کا کوئی مرد سونا پہنتا ہے یا ریشم یا کوئی عورت بے پردہ ہے کوئی فرد سگریٹ نوشی کرتا ہے یا دیگر منشیات میں سے کسی چیز کو استعمال کرتا ہے (یا گھر میں کتا ہے یا بے نمازی ہے۔)۔
      ×             مریض اور اس کے اہل خانہ کو عقیدہ صحیحہ پر بھر پور درس دینا یہاں تک کہ ان کے دل تعلق مع غیر الله سے پاک ہوجائیں ۔
      ×             حالات کی تشخیص جس کی صورت یہ ہے کہ معالج مریض سے چند سوالات کرے تاکہ اس پر پیش آنے والے حالات کا اندازہ کر سکے، مثال کے طور پر اس سے پوچھے کہ :
·         ‌کیا تم اپنی بیوی کو کبھی قبیح دیکھتے ہو؟
·         کیا معمولی بات پر تم دونوں میں اختلافات ہوتے ہیں؟
·         کیا جب تم گھر سے باہر رہتے ہو تو تمہیں سکون ملتا ہے اور جب گھر میں داخل ہوتے ہو تو تمہیں الجھن اور نفسیاتی تنگی محسوس ہوتی ہے؟
·         کیا تم دونوں میں کسی کو ہم بستری کے وقت کوئی حرج اور مضائقہ محسوس ہوتاہے؟
·         کیا تم میاں بیوی مین سے کسی کو حالت نیند مین اضطراب یا قلق لاحق ہوتا ہے، یا کوئی ڈراؤنا خواب دکھائی دیتا ہے؟ اگر ان مین دویا دو سے زائد عارضہ اس کے اندر پایا جاتا ہے تو معالج اس کا علاج شروع کرے۔
      ×             علاج شروع کرنے سے پہلے معالج خود وضو کرے اور جو لوگ وہاں موجود ہوں ان کو بھی وضو کا حکم دے۔
      ×             اگر مریض عورت ہو تو اسے اچھی طرح کپڑاباندھنے اور مکمل طور سے پردہ اختیار کرنیکا حکم دے تاکہ دوران علاج بے پردگی کا اندیشہ نہ رہے۔
      ×             مریضہ عورت کا اس وقت تک علاج نہیں کرنا چاہئے جب تک اس کے اندر خلاف شرع کوئی بات پائی جائے جو کافر کے اندر پائی جاتی ہے۔
      ×             کسی عورت کا اس وقت تک علاج نہ کرے جب تک اس کے محارم میں سے کوئی نہ ہو یعنی محرم میں سے کسی کی موجودگی ہی میں علاج کرے۔
      ×             معالج اپنے ساتھ کسی غیر محارم کونہ رکھے۔
      ×             لاحول ولا قوۃ الا بالله پڑھے اور الله سے استعانت طلب کرے۔
علاج کا دوسرا مرحلہ:
معالج کو چاہئے کہ اپنا ہاتھ مریض کے سر پر رکھے اور اس کے کان مین تر تیل سے پڑھے
1.     اعوذ بالله من الشیطان الرجیم من همزه ونفخه و نفثه ، بسم الله الرحمٰن الرحیم پھر سورہ فاتحہ پڑھے۔
2.     ﴿ بسم الله الرحمن الرحیم۞ الۤمۤ ۞ ذٰلک الکتاب لاریب فيه هدی للمتقین ۞ الذین یومنون بالغیب ویقیمون الصلاۃ ومما رزقناهم ینفقون ۞ والذین یومنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک وبالآخرة هم یوقنون ۞ اولئك على هدىً من ربهم واولئک هم المفلحون۞
3.     اعوذ بالله من الشیطان الرجیم۞ ﴿واتبعوا ماتتلوا الشیٰطین علی ملک سلیمان وما کفر سلیمان ولکن الشیٰطین کفروا یعلمون الناس السحر وما انزل علی الملکین ببابل هاروت و ماروت وما یعلمٰن من احد حتی یقولا انما نحن فتنة فلا تکفر فیتعلمون منهما ما یفرقون به بین المرء و زوجه وما هم بضارین به من احد الا باذن الله ویتعلمون مایضرهم ولا ینفعهم ولقد علموا لمن اشتراه ماله فی الآخرة من خلاق ولبئس ماشروا به انفسهم لو کانوایعلمون۞ ]سورةالبقرة : 101-102[کو چند مرتبہ دہرائے۔
4.     تعوذ کے بعد: ﴿ والهکم اله واحد لا اله الا هو الرحمن الرحیم۞ ان فی خلق السمٰوٰت و الارض واختلاف اللیل والنهار والفلک التی تجری فی البحر بما ینفع الناس وما انزل الله من السماء من ماء فاحیابه الارض بعد موتها وبث فیها من کل دابة وتصریف الریٰح والسحاب المسخر بین السماء والارض لاٰیٰت لقوم یعقلون۞]سورة البقرة 163-164
5.     تعوذ کے بعد آیت الکرسی پڑھے۔
6.     تعوذ کے بعد  ﴿ اٰمن الرسول بما انزل اليه﴾ سے سورة البقرۃ کے اختتام تک پڑھے۔
7.     تعوذکے بعد ﴿ شهد الله انه لا اله الا هو و الملئکة واولوا العلم قائما بالقسط لا اله الا هو العزیز الحکیم ۞ ان الدین عند الله الاسلام وما اختلف الذین اوتوا الکتاب الا من بعد ما جاءهم العلم بغیا بینهم ومن یکفر بایت الله فان الله سریع الحساب۞] آل عمران: 18-19[ پڑھے۔
8.     تعوذ کے بعد ﴿ ان ربکم الله الذی خلق السمٰوٰت والارض فی ستة ایام ثم استوی علی العرش یغشی الیل النهار یطلبه حثیثا والشمس والقمر والنجوم مسخرٰت بامره الا له الخلق والامر تبٰرک الله رب العالمین۞ ادعوا ربکم تضرعا و خفیة انه لا یحب المعتدین ۞ ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحها وادعوه خوفا وطمعا ان رحمت الله قریب من المحسنین۞ ]الاعراف :54-56[ پڑھے۔
9.     تعوذ   کے بعد ﴿ واوحینا الی موسیٰ ...تا.... ولو کره المجرمون۞ ]الاعراف 81-82[  پڑھے۔﴿ القی السحرة سجدین۞﴾ کی تیس مرتبہ تکرار کرے۔
10.تعوذکے بعد ﴿ قال موسیٰ ما جئتم به السحر...تا...ولو کره المجرمون۞﴾ ]یونس : 81-82[ پڑھے اور ﴿ان الله سیبطله﴾  کا چند مرتبہ تکرار کرے۔
11.            تعوذ  کے بعد  ﴿انما صنعوا کید ساحر و لا یفلح الساحر حیث اتی۞﴾ ]طه :69[  کو چند مرتبہ پڑھے۔
12.           تعوذ کے بعد ﴿ افحسبتم انما خلقنکم ...تا...خیر الراحمین۞﴾ ]المومنون: 115-118[پڑھے۔
13.تعوذ کے بعد ”سورة الصافات“ کی ابتدائی دس آیتیں پڑھے۔
14. تعوذ کے بعد ”سورة الحشر“ کی آخری 4 آیتیں پڑھے۔
15.تعوذ کے بعد کے ”سورة الجن“ کی ابتدائی 9 آیتیں پڑھے۔
16.تعوذ کے بعد ”سورة الاخلاص“  پڑھے۔
17.تعوذ کے بعدمعوذتین یعنی ”سورة الفلق“  و ” سورة الناس“  پڑھے۔ اور ﴿ومن شرالنفٰثٰت فی العقد۞﴾ کو چند بار دہرائے۔
مذکورہ با لا تمام آیتوں کو مریض کے کان میں ترتیل اور بآواز بلند پڑھے تو مریض کی تین حالات میں سے ایک حالت ضرور ہوگی۔
‌أ.   اس مریض پر بے ہوشی کا دورہ پڑے گا ۔ اور اس کی زبان پر موکل جنی بات کرے گا۔ اس وقت معالج کو چاہیئے کہ اس سے چند سوالات کرے مثلا :
      ×            تمھارا کیا نام ہے ؟ تمھارا دین کیا ہے؟ پھر اس کے بعد اس کے ساتھ اس کے مذہب کے مطابق معاملہ کرے ۔اگر وہ غیر مسلم ہو تو اس پراسلام پیش کرے۔ اور اگر وہ (جنی) مسلمان ہوتو معالج اسکے لئے یہ واضح کرے کہ ساحر کی خدمت کے لئے وہ جو کچھ کر رہا ہے وہ اسلامی شریعت کے خلاف ہے اور نا جائز ہے۔
      ×            معالج جادو کی جگہ کے بارے میں اس سے دریافت کرے ، لیکن اس وقت تک اسکی بات کی تصدیق نہ کرے جب تک اس کی بات کی سچائی واضح نہ ہوجائے۔ مثلا اگر وہ کہے کہ فلاں جگہ میں کسی چیز میں جادو کر کے گاڑ رکھا ہے، تو معا لج کسی کو بھیج کر اس جگہ کو کھدوائے ۔اگر وہاں سے کوئی چیز نکلتی ہے، تو ٹھیک ہے ورنہ وہ جھوٹا ہے ۔
      ×            معالج اس سے سوال کرے کہ کیا اس کے ساتھ کوئی دوسرا جن بھی شامل ہے؟ اگر وہ اثبات میں جواب دے تو اس سے کہے کہ اپنے شریک کو حاضر کرو۔
      ×            کبھی جنی معالج سے یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ فلاں انسان جادو گر کے پاس تھا۔  اور اس سے جادو کرنے کی درخواست کی تھی، تو معالج اس کی بات کی تصدیق نہ کرے۔ کیونکہ وہ انسانوں کے مابین عداوت پیدا کرنے کا خواہاں ہوتا ہے۔ اور اس وجہ سے بھی کہ شرعا اسکی شہادت مردود ہے کیونکہ وہ فاسق ہے اور اسکا فسق ظاہر و باہر ہے کیونکہ اس نے ساحر کی خدمت کی ۔
اگر جنی کی بتائی ہوئی جگہ سے جادو کی ہوئی چیز نکل آئی تو معالج مندرجہ ذیل آیتوں کو پڑھ کر پانی میں دم کرے:
﴿واوحینا الی موسیٰ ان الق عصاک فاذا هی تلقف ما یا فکون۞ فوقع الحق و بطل ماکانوا یعملون ۞ فغلبوا هنالک وانقلبوا صٰغرین ۞ والقی السحرة ساجدین ۞ قالوا آمنا برب العالمین ۞ رب موسیٰ وهارون ۞﴾ ، ﴿قال موسی ماجئتم به السحر ان الله سیبطله ان الله لایصلح عمل المفسدین ۞ ویحق الحق بکلماته ولو کره المجرمون ۞﴾اور ﴿انما صنعوا کیدساحر ولا یفلح الساحر حیث اتی۞﴾  
اور اس پانی کو لوگوں کے چلنے پھرنے کے راستہ سے دور لیجا کر ڈال دے ان شاء الله سحر تفریق کا خاتمہ ہوگا۔ اور مریض کلی طور پر شفایاب ہوگا۔
اگر وہ جنی کہے کہ اس کو جادو پانی میں پلا یا گیاہے۔ تو معالج اس سے پوچھے کہ کیا تمہارے معدے میں درد ہوا کرتا ہے ؟ وہ اگر اثبات میں جواب دے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جنی سچ کہہ رہا ہے۔ اس صورت میں وہ جنی سے ہمیشہ کیلئے نکل جانے کا مطالبہ کرے۔اس کے بعد مذکورہ بالا آیتوں کو سات سات بار پڑھے ۔اور ان میں سورہ  البقرة کی آیت نمبر 102﴿واتبعوا ما تتلوا الشیاطین﴾ الخ.  کو بھی ملا لے اور پانی میں دم کرے پھر مریض اس پانی کو سات دن صبح وشام پئے ۔ان شاء الله جادو کا خاتمہ ہوجائے گا۔
اور اگر جنی یہ کہے کہ مریض کے بال یا کپڑے میں جادو کیا گیا ہے۔ تو مذ کورہ آیتوں کو پانی پر پڑھے، جس سے وہ سات دن تک غسل کرے۔ اور معالج جنی سے یہ عہد لے کہ وہ دوبارہ کبھی اس مریض کے پاس واپس نہیں آئے گا۔
ب‌.                     دوسری حالت یہ ہے کہ ان آیتوں کو اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پڑھنے کے دوران مریض پر کپکپی طاری ہوگی لیکن وہ بے ہوش نہیں ہوگا۔ ایسی صورت میں ان آیتوں کو دوبارہ سہ بارہ پڑھے اگر بے ہوش ہوتا ہے تو وہی طرپقہ اپنائے جو پہلی حالت کے ضمن میں ذکر کیا گیا۔ اور اگر بے ہوش نہیں ہوتا ہے تو سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۰۲ یا آیت الکرسی یا نواں نمبر میں جو آیتیں لکھی گئیں ان کو پڑھے اور مریض پر دم کرے ان شاء الله مریض جانبر ہوجائے گا۔
ج‌.                      تیسری حالت مریض کی یہ ہوسکتی ہے کہ نہ وہ بے ہوش ہوگا اور نہ ہی اس پر کپکپی طاری ہوگی تو ایسی صورت میں ان آیتوں کا کو دوبارہ پڑھے پھر بھی اگر اس پر کوئی سابق دونوں حالتوں میں سے کوئی حالت طاری نہیں ہوتی ہے تو سمجھ لو کہ جادو نہیں ہے کوئی بیماری ہے۔
تیسرا مرحلہ:
یہ علاج مکمل ہونے کے بعد کا مر حلہ ہے۔  اگر الله معالج کے ہاتھ سے مریض کو شفاء دے تو اس معالج کو چاہئے کہ الله کا شکر ادا کرے اور تکبر گھمنڈ اور سرکشی میں مبتلا نہ ہو بلکہ الله کا شکر گذار بندہ بنے رہے۔
اور مندر جہ ذیل امور کی پابندی کرے :
1.    نماز باجماعت کی مداومت ۔
2.    گانے ، بجانے اور موسیقی سے گریز
3.   سونے سے پہلے و ضوکیا کرے اور آیۃ الکرسی پڑھ کر سوئے ۔
4.    ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم الله پڑھے۔
5.   فجر کی نماز کے بعد پابندی پابندی سے ” لا اله الا الله وحده لاشریک له له الملک وله الحمد وهو علی کل شئی قدیر“ پڑھے۔
6.    روزانہ قرآن کا کچھ حصہ تلاوت کیا کرے۔
7.   نیک لوگوں کی صحبت میں رہے۔
8.    صبح و شام کے اذکار کی پابندی کرے۔
*****


سحر جنون

جولائی اگست 2000ء
حضرت خارجہ بن الصۃ  رضی اللہ عنہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا اس کے بعد آپﷺ کے پاس سے واپس ہوتے وقت ان کا گذر ایسے لوگوں سے ہوا جن کے یہاں ایک مجنون (پاگل ) کو لو ہے سے باندھ کر رکھا گیا تھا۔ اس مجنون کے گھر والوں نے ان سے کہا کہ ہم لوگوں کو یہ خبر ملی ہے کہ آپ لوگوں کے صاحب ( بنی کریم ﷺ ) خبر لیکر آئے ہیں ۔ تو کیا آپ لوگوں کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جس سے آپ لوگ علاج کرتے ہوں؟ وہ کہتے ہی کہ : میں نے اس مجنون پر سورہ فاتحہ پڑھا تو وہ ٹھیک ہوگیا (اس کا جنون جاتا رہا ) تب ان لوگوں نے مجھے سو بکریاں دیں۔ میں رسول ﷺ الله کی خدمت میں آیا اور آپﷺ کو اس کی خبر دی تو آپﷺ نے فرمایا کہ فاتحہ کے علاوہ کوئی دوسرا منتر تو تم نے نہیں پڑھا تھا؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان بکریوں کو لے لو ! ( یعنی لینے میں کوئی حرج نہیں ) لوگ تو باطل منتر سے کھاتے ہیں اور تم کو یہ بکریاں منتر حق کے ذریعہ دستیاب ہوئیں ۔
اور دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے تین دن صبح و شام اس مجنون پر سورہ فاتحہ پڑھا۔  جب اسے پڑھ لیتے تو منہ میں تھوک جمع کرکے تھوکتے تھے (یعنی اس پر تھوتھکاری مارتے تھے )۔ اس حدیث کو امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے اور امام نووی نے ’’ اذکار ‘‘ میں اسے صحیح قرار دیا۔

سحر جنون کا عارضہ:

سحر جنون کا عارضہ حسب ذیل طریقوں پر ظاہر ہوتا ہے :
1.    بدک کر بھاگنا اور مدہوشی و سخت نسیان کا شکار ہونا۔
2.     بہکی بہکی باتیں کرنا ۔
3.    نگاہوں کو کثرت سے نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے کرتے رہنا۔
4.    ایک جگہ میں برقرار نہ رہنا۔
5.   کسی مخصوص کا م کو لگا تار نہ کرنا ۔
6. جدھر جی چاہے بلا مقصد اور بغیر سوچے سمجھے چلدینا اور چلتے ہوئے کبھی غیر آباد جگہ میں سوجانا۔

سحر جنون کس طرح وجود میں آتا ہے؟ :
ساحر کی جانب سے سحر جنون کے مؤکل جنی کو سحر زدہ شخص کے اندر داخل ہونے اور اس کے بھیجے میں متمکن ہونے کا مکلف بنایا جاتا ہے۔ چنانچہ جنی اس کے بھیجے میں متمکن ہوتا ہے۔ اور بھیجہ کے ان خلیوں کو بھینچتا اور ان میں تنگی پیدا کرتا ہے جو غور و فکر کرنے اور یاد داشت کے لئے مخصوص ہیں ، پھر اس طرح انسان کو سحر جنون کا عارضہ لاحق ہوجاتا۔

سحر جنون کا علاج:
1.  اس پر وہ سب منتر پڑھیئے جن کا ذکر سحر تفریق کے علاج کے موقع پر پیوستہ شمارہ میں کیا گیا۔ اگر اس پر بے ہوشی طاری ہوتی ہے تو اس کے ساتھ وہی معاملہ کیجئے جس کی تفصیل وہاں گذر چکی ہے۔
2. بے ہوشی طاری نہ ہونے پر ان منتروں کو تین مرتبہ پڑھنا چاہئے ۔پھر ان شاء الله بے ہوشی طاری ہوگی اور اگر خدانخواستہ بے ہوشی طاری نہ ہو تو کچھ دنوں تک سورة البقرة، هود، الحجر، الصافات، ق، الرحمٰن، الملک، الجن، الاعلیٰ، الزلزلة، الهمزة، الکافرون اور الفلق  پڑھیئے ان شاء الله سحر جنون کا خاتمہ ہوجائیگا ۔ ان سورتوں کے پڑھنے کے دوران بھی کبھی اس پر بے ہوشی طاری ہوسکتی ہے اور مکلف جنی کلام کرسکتا ہے یا مریض کی تکلیف میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ لیکن چند دنوں میں ہی دھیرے دھیرے کم ہوتی جائیگی یہاں تک کہ سحر ختم ہوجائیگا۔
3. علاج کے دوران مریض کو تکلیف کم کرنے والی گولیاں نہیں لینا چاہیے کیونکہ اس سے علاج سحر متأثر ہوتا ہے۔ مریض کو صحت یاب ہونے میں ایک ماہ سے کم ہی لگتا ہے اور اگر کسی مریض کا یہ سحر زیادہ سخت اور مضبوط ہو تو زیادہ سے زیادہ تین مہینہ لگ سکتا ہے۔
4. دوران علاج مریض کو صغائر و کبائر ہر طرح کے گناہوں سے دور رہنا چاہئے۔ مثلا : سگریٹ نوشی ، شراب نوشی، نماز کی ادائیگی میں بے اعتنائی و کاہلی اور اگر سحر زدہ عورت ہے تو بے پردگی و غیر ہ سے پرہیز ضروری ہے۔
5. مریض کے معدہ میں اگر تکلیف رہتی ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جادو اسے کھلایا، یا پلایا گیاہے۔ ایسی صورت میں ان تمام آیتوں کو ( سحر تفریق کے علاج کے موقع پر ذکر کی گئی آیتوں کو) پانی پر پڑھیئے اور علاج کے دوران اس میں سے تھوڑا تھوڑا وہ پیتا رہے ان شاء  الله وہ اندر ہی باطل ہوجائے گا یا قئے کے ذریعہ باہر نکل آئے گا ۔

٭٭٭٭٭

سحر خمول (کمزوری )
سحر خمول کا عارضہ حسب ذیل صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے :
1.    عزلت پسندی
2.     بدن کا سکڑجانا
3.   دائمی خاموشی
4.    مجلسوں میں بیٹھنے میں کراہیت
5.   ذہنی انتشار
6.   ہمیشہ سر میں درد کاہونا
7.   سستی اور دائمی کمزوری

سحر خمول کیسے وجود میں آتا ہے؟:
جادو گر جنی کو مطلوب سحر شخص کے پاس بھیجتا ہے اور اسے حکم دیتا ہے کہ وہ اس کے بھیجہ میں جاگزیں ہو اور اس کے اندر سکڑن و عزلت پسندی کے اسباب پیدا کرے۔ چنانچہ جنی اپنی استطاعت بھر اس کام کو انجام دیتا ہے اور یہ عارضہ سحر زدہ پر جنی کے قوت اور ضعف کے مطابق ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی اس سحر پر مامور جنی اگر طاقتور ہوتا ہے تو یہ عارضہ بھی سخت ہوتا ہے۔  اور اگر کمزور ہوتا ہے تو یہ عارضہ بھی نسبتاً کمزور ہوتا ہے۔

سحر خمول کا علاج:
1.    اس پر معالج سابق الذکر منتر وں کو پڑھے اور جب اس پر بے ہوشی طاری ہو تو جنی سے مخاطب ہو اور سابق الذکر طریقہ سے اس کے ساتھ معاملہ کرے۔
2.     اگر بے ہوش نہ ہو تو مندرجہ ذیل سورتیں کیسیٹ ،سی ڈی یا موبائل  پرریکارڈ کرے: البقرة، اٰل عمران، یٰس، الصافات، الدخان، الذاریات، الحشر، المعارج، الغاشية، الزلزلة، القارعة، الناس اور الفلق۔ ( ان سورتوں کو مریض  دن میں تین بارصبح ، دوپہر اور شام میں سوتے وقت سناکرے ۔)
3.   چالیس سے پنیتالیس دن تک میں سحر خمول کا خاتمہ ہوجائے گا۔  بلکہ اس سے بھی کم مدت میں اس کا خاتمہ ہوگا اور مریض شفایاب ہوگا۔ ان شاء الله ۔
4.    اس دوران اگر مریض کے معدہ میں تکلیف ہو تو ان منتروں کو پانی پر پڑھے اور مریض کیسیٹ سماعت کرنے کی مدت میں اس سے تھوڑا تھوڑا پیا کرے۔
5.    مریض اگر سرمیں مسلسل درد محسوس کرتا ہو تو منتروں کو پانی پر پڑھے اور مریض اس پانی سے مذکور ہ مدت میں ہر تیسرے دن ایک مرتبہ غسل کرے لیکن شرط یہ ہے کہ اسمیں پانی نہ ملائے اور گرم بھی نہ کرے اور پاک صاف جگہ غسل کرے۔
۞۞۞
سحر ہواتف

ہواتف ہاتف کی جمع ہے ۔اور ہاتف وہ ہے جس کی آواز سنائی دے اور وہ دکھائی نہ دے۔
سحر ہواتف کا عارضہ :
·         ڈراونے خواب کادیکھنا
·         خواب میں دیکھنا کہ کوئی اسے پکار رہاہے
·         حالت بیداری میں آوازیں سنائی دیں اور اشخاص نظرنہ آئیں
·         وسوسوں کی کثرت
·         دوست و احباب کے سلسلہ میں کثرت سے شکوک و شبہات پیداہونا
·         خواب میں دیکھنا کہ وہ عنقریب بلندجگہ سے گرنے والا ہے
·          خواب یہ دیکھنا کہ خوفناک درندہ یا حیوان اس کے پیچھے دوڑرہاہے یعنی اسے دوڑارہاہے

سحر ہواتف کیسے وجود میں آتا ہے؟:
ساحر جنی کو بھیجتا ہے اور اس کو اس بات کا مکلف بنا تا ہے کہ فلاں آدمی کو نیند اور بیداری دونوں حالت میں مشغول رکھے اور پریشان کرے۔ چنانچہ وہ جنی نیند کی حالت میں اس کیلئے خونخوار درندہ یا کسی خوفناک جانور کی شکل ختیار کرتا ہے۔ اور بیداری کی حالت میں اسے آواز دیتا ہے۔ بسااوقات وہ اسے ایسے لوگوں کی آواز میں پکار تا ہے جن کو وہ شخص پہچانتا ہ۔ یا اجنبی کی آواز میں پکار تا ہے۔ پھر وہ اسے قریبی لوگوں اور اجنبیوں دونوں کے سلسلہ میں شک میں مبتلا کردیتا ہے۔ یہ عارضہ کبھی انتہائی سنگین ہوجاتا ہے ۔یہاں تک کہ مسحور کو جنون اور دیوانگی کا شکار کردیتا ہے۔  یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس پر مامور جنی زیادہ تگڑا اور طاقتور ہوتا ہے۔ اور اگر جنی کمزور اور ضعیف ہوتاہے تو وسوسہ سے تجاوز نہیں کرتا ۔

سحر ہواتف کا علاج:
1.   مریض پر سابق منتر وں کو پڑھیئے ۔ اگر وہ بے ہوش ہوجائے تو اس کا علاج ویسے ہی کیجئے جیسے اس سے قبل بتایا جاچکاہے۔
2.    اور اگر وہ بے ہوش نہیں ہوتا ہے تو اسے مندرجہ ذیل ہدایات دیجئے ۔
·         سونے سے قبل وضوء کرکے آیۃ الکرسی کی تلاوت (البخاری ، المسلم)
·         دونوں ہتھیلیوں کو ملائے اور سورہ ناس و فلق پڑھکر ان دونوں پر پھونکے پھر جسم پر ہاتھ پھیرے یہ عمل سونے سے قبل وہ (مریض) تین بار کیاکرے۔ (رواہ البخاری)
3.   سورہ الصافات صبح کے وقت اور سورہ الدخان سونے کے وقت مریض پڑھ لیا کرے ۔اور اگر پڑھنا نہ جانتا ہو تو دوسروں سے پڑھوائے اور انہماک کے ساتھ سنے ۔
4.    تین دن میں ایک بار سورہ بقرۃ پڑھایا سناکرے ۔
5.   صبح و شام سات مرتبہ ’’ حسبی الله لااله الاهو علیه توکلت وهو رب العرش الکریم‘‘ پڑھاکرے۔
6.   سورہ بقرۃ کی آخری دونوں آیتوں کو سونے سے قبل پڑھ لیا کرے (البخاری) ۔
7.   سوتے وقت یہ دعاء پڑھے بِسْمِ اللَّهِ وَضَعْتُ جَنْبِى اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى ذَنْبِى وَأَخْسِئْ شَيْطَانِى وَفُكَّ رِهَانِى وَاجْعَلْنِى فِى النَّدِىِّ الأَعْلَىٰ“ (رواہ ابو داؤد وصححه الالباني)۔
8.   سورتوں کی کیسیٹ تیار کرکے مریض کو دے جسے وہ روزانہ تین مرتبہ سنا کرے ۔
مذکورہ تمام تعلیمات وہدایات پر مریض ایک مہینہ عمل کرے ان شاء الله مکمل شفایاب ہوگا۔ 
      ۞۞۞

سحر المرض
1.سحر مرض میں سحر زدہ کے جسم کے کسی بھی عضو میں دائمی درد ہوتا ہے
2. وقتا فوقتا دورہ پڑتا ہے اور اعصاب میں تشنج پیدا ہوتا ہے
3. جسم کا کوئی عضو شل ہوجاتا ہے
4. پورا جسم لنج ہوجاتاہے
5. اور کبھی کوئی حاسہ معطل ہوجاتاہے
 میں اس بات کی وضاحت کردینا مناسب سمجھتا ہوں کہ سحر مرض میں ظاہر ہونے والی بعض کیفیت عضوی امراض سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس لئے بسااوقات یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ مرض ہے یا سحر ؟ لیکن آپ مرض و سحر میں اس طرح بآسانی فرق کر سکتے ہیں کہ آپ سابق الذکر منتروں کو مریض پر پڑھیے اگر ان کو سننے کے دوران اس کو چکر آنے لگتا ہے، یا درد سر لاحق ہوتا ہے یا اس کے جسم کے اطراف میں حرکت یا کپکپی پیدا ہوتی ہے تو بلا شبہ وہ سحر ہے اور اگر ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے تو وہ عضوی مرض ہے ۔ جس کا علاج اطباء سے کراناچاہئے۔

سحر المرض کس طرح وجود میں آتاہے؟ :
یہ حقیقت محتاج بیان نہیں ہے کہ بھیجہ کو جسم کے تمام اعضاء میں ایک اہم و مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ کیونکہ جسم کے تمام حواس بھیجہ سے ہی اشارات اور ہدایات حاصل کرتے ہیں۔ مثلا: آپ اگر اپنی انگلی آگ کے قریب لے جائیں تو انگلی دماغ کے مرکز احساس  کی طرف انتہائی تیزی سے اشارہ کرتی ہے۔پھر اس کی جانب فی الفور آگ سے دور ہونے کا حکم آتا ہے پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھ آگ سے دور ہوجاتا ہے۔ اور یہ سب کچھ ایک سیکنڈ کے اندر ہی ہو جاتا ہے۔﴿هذا خلق الله فأرونی ما ذا خلق الذین من دونه
جب کوئی شخص سحر مرض سے دوچار ہوتا ہے تو ساحر جس جنی کو مکلف کرتا ہے وہ اس کے بھیجہ میں متمکن ہوجاتا ہے اس طرح وہ گویا اس شخص کی سماعت ، بصارت ، ہاتھ اور پیر کے احساس کے مرکز مستقر ہوتا ہے۔ پھر اس وقت اس شخص کے اعضاء تین حالات کے مابین ہوتے ہیں ۔
·         یا تو جنی الله کی قدرت سے بھیجہ کی جانب سے عضو کی طرف پہنچنے والے اشاروں کو پہنچنے سے روک دیتا ہے تو عضو معطل اور بیکار ہو کر رہ جاتا ہے اور وہ آدمی اندھا یا بہر ا یا گونگا ہو جاتا ہے۔ یا اس کا کوئی دوسرا عضو مثلا ہاتھ یا پیر بیکار ہوجاتا ہے۔
·         یا جنی کبھی الله کی قدرت و مشیت سے بھیجہ کی جانب سے آنے والے اشاروں اور رہنمائیوں کو روکتا ہے اور کبھی نہیں روکتا ہے، تو ایسی صورت میں مریض کے اعضاء کبھی کام کرتے ہیں اور کبھی بیکار ہوجاتے ہیں۔
·         یاتو جنی بھیجہ میں مسلسل اشارے دینے کیلئے کھلی چھوٹ دیتا ہے پھر وہ بلاسبب متواتر اشارات اور رہنمائیاں صادر کرتا رہتا ہے جن کی تاب نہ لاکر یہ عضو سخت اور ٹھوس ہوجاتا ہے اور اس میں حرکت کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی ہے۔
ارشاد خداوندی ہے
﴿وماهم بضارین به من احد الا باذن الله﴾  یعنی جادو گر لوگ جادو کے ذریعہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاسکتے مگر الله کی اجازت (مشیت) سے۔  لہٰذا جادو کے مذکور ہ بالا اثرات سے کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔
وحید عبدالسلام بالی مؤلف و قایة الانسان  ایک جگہ رقمطراز ہیں کہ بہت سے اطباء جادو کے اثر کا اعتراف نہیں کرتے اور نہ ہی اسے تسلیم کرتے ہیں، لیکن جب ان لوگوں نے بہت سی ایسی حالات کا اپنی نگاہوں سے سے مشاہدہ کیا تو تصدیق و تسلیم کے بغیر انہیں کوئی چارہ نہ رہا ۔اور الله علی و قدیر کے امر کے سامنے انہیں سرنگوں ہونا پڑا ۔
وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے پاس ایک طبیب آیا اور آتے ہی کہا کہ میں ایک ایسے معاملہ میں آپ کے پاس آیاہوں جس نے مجھے حیران کردیا۔ میں نے کہا خیر یت تو ہے کیا بات ہے ؟  انہوں نے کہا: میرے پاس ایک آدمی اپنا ایک اپاہج بچہ لے کر آیا جو حرکت کرنے پر بالکل قادر نہیں تھا ۔ میں نے اس کا چیک أپ کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس کی ریڑھ بیکار ہورہی ہے۔یہی تشخیص دوسرے اطباء کی بھی تھی ۔ لیکن وہ لڑکا کسی بھی دوا سے ٹھیک نہ ہوا۔ انہوں نے کہا : چند ہفتہ بعد اس آدمی سے ملاقات ہوئی میں نے لڑکے کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا الحمد للہ اب وہ اٹھ بیٹھ لیتا ہے۔ اور تھوڑا بہت چل بھی لیتا ہے۔ تو میں نے سوال کیا کہ کس سے علاج کرائے ہو! اس نے کہا: وحید عبدالسلام سے ، اتنا سنا نے کے بعد اس طبیب نے کہا کہ میں آپ کے پاس یہ جاننے کیلئے آیا ہوں کہ وہ مریض جس سے اطباء عاجز تھے آپ نے اس کا علاج کس طرح کیا؟   تو میں نے کہا :کہ اس پر میں نے کتاب الله کی کچھ آیتیں پڑھی۔ پھر کلونجی کے تیل پر منتر پڑھا ۔اور اس کے مشلول اعضاء پر لگانے کو کہا ۔ وہ لگا تاگیا اور اس کی صحت بحالی ہوتی گئی یہاں تک کہ وہ مکمل صحتیاب ہوگیا۔ جو محض الله کا فضل اور اسی کی قدرت کی بنا پر ہوا۔

علاج سحر المرض:
1.   اس پر سابق الذکر منتر وں کو تین بار پڑھیئے ! اگر وہ بے ہوش ہوتا ہے تو اس کے ساتھ وہی معاملہ کیجئے جس کا بیان پہلے گذرچکا ہے۔
2.    اگر بے ہوش نہ ہو مگر اپنے اندر کچھ تغیر محسوس کرتا ہے تو اسے مندرجہ ذیل ہدایات دیجئے سورة الفاتحه ، آیة الکرسی ، سورة الدخان ، سورة الجن اور معوذتین کیسیٹ پر روزآنہ تین مرتبہ سناکرے۔
مندر جہ ذیل منتر کو کلونجی کے تیل پر پڑھیئے اور صبح و شام پیشانی اور جسم کے جس مقام میں بھی درد ہو لگا لیا کرے۔

وہ منتر یہ ہے
1.                         الفاتحة
2.                        المعوذتین
3.                        ﴿وننزل من القرآن ما هو شفاء ورحمة للمؤمنین﴾
4.                         بسم الله ارقیک والله یشفیک من کل داء یؤذیک ، ومن کل نفس أو عین حاسد الله یشفیک
5.                         اللهم رب الناس ، أذهب الباس ، و أشف أنت الشافی لا شفاء الاشفاء ک لا یغادر سقما

چالیس دن سے پہلے پہلے ان شاء الله سحر مرض کا خاتمہ ہوجائیگا ۔ اور مریض مکمل چنگا ہوجائیگا۔

********

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook

۞۞۞

3 comments:

محد اشفاق ایاز نے لکھا ہے کہ

اللہ کریم آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے

bintesarwat نے لکھا ہے کہ

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا۔ مزید پوسٹس کا انتظار ہے

Unknown نے لکھا ہے کہ

اپنے بچاو کے لئے کیسے حصار باندھا جائے

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔