اکتوبر ۱۹۹۹ء
صوفیاء کے طریقوں کو اختیار کرنے اور صوفیت میں داخل ہونے کیلئے کتاب وسنت کی طرف متوجہ ہونے کی شرط نہیں ہے ، بلکہ صوفی کو ہدایت کی توفیق کبھی غیبی آواز کے توسط سے حاصل ہوتی ہے اور کبھی دوسرے ذرائع سے ، صوفیاء گروہ کا آغاز ہی سے یہ گمان ہے کہ وہ لوگ جو علم حاصل کرتے ہیں وہ کتاب و سنت کے علم سے افضل ہے، بلکہ ان لوگوں کا خیال ہے کہ کتاب و سنت کا علم ان کے طریقوں اور مسلک سے غافل کرنے والا ہے، چنانچہ ابویزید بسطامی متوفی (۲۶۱ھ ) علماء شریعت کی تنقیص اور اپنی جماعت (صوفیاء) پر فخر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ :
تم لوگوں نے اپنا علم مر دہ حالت میں مردار سے حاصل کیا ہے اور ہم (اہل تصوف ) نے اپنا علم ایسی ہستی سے حاصل کیا جو زندہ ہے اور نہیں مرتی ہے، ہم جیسے لوگ کہتے ہیں کہ ہم سے ہمارے قلب نے ہمارے رب سے روایت کی اور تم لوگ کہتے ہو کہ ہم سے فلاں نے حدیث بیان کی ، جب پوچھا جاتا ہے کہ وہ فلاں کہاں ہے تو تم کہتے ہو کہ مرچکاہے۔
جنید کہتا ہے کہ ہم نے قیل (کہا گیا) اور قال (کہا ) سے علم تصوف حاصل نہیں کیا ،وہ مزید کہتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تصوف کی ابتدا ء کرنے والے کا دل تین چیزوں میں مشغول نہ ہو ورنہ اس کا حال متغیر ہوجائے گا ، اور وہ تین یہ ہیں : کمائی، طلب حدیث اور نکاح اور صوفی کیلئے مجھے یہ بات پسند ہے کہ وہ نہ پڑھے اور نہ ہی لکھے کیونکہ یہ دونوں باتیں غم و فکر کی جامع ہیں (قوت القلوب جلد ۳؍۱۳۵)
کسی بھی انصاف پسند آدمی پر (جو اللہ کا خوف رکھتا ہو ) مخفی نہیں ہے کہ یہ باتیں اسلامی شریعت کو منہدم کرنے والی ہیں بلکہ پوری آبادی کو منہدم کرنے والی ہے، کیونکہ انسانی تہذیب، یہاں تک کہ مادی تہذیب بھی ان تین چیزوں علم ، طلب معاش اور نکاح کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی ، اور خاص طور پر اسلامی تہذیب و تمدن انہیں تین چیزوں پر قائم ہے، اسلام علم آخرت کی طلب کا حکم دیتا ہے جو کتاب و سنت کا علم ہے، اسی طرح دنیاوی علم جو انسانی زندگی کیلئے نفع بخش ہو اس کے حصول کی بھی ترغیب دیتا ہے۔
صوفیاء نے علم شریعت اور کتاب و سنت کے علم سے صرف نفرت ہی نہیں دلائی ہے بلکہ اپنے مزعوم کشف اور اللہ سے براہ راست علم کے نقل کرنے کو اسناد حدیث پر فوقیت دی، چنانچہ ان لوگوں نے جن احادیث کو چاہا صحیح قرار دیا خواہ وہ علماء حدیث کے نزدیک کتنی ہی ضعیف کیوں نہ ہوں ، اور وہ جن احادیث کو چاہتے ہیں ضعیف قرار دیتے ہیں چاہے وہ اس علمی دقیق پیمانہ کے مطابق کتنی ہی صحیح کیوں نہ ہوں جو اسلام میں ایک قابل فخر چیز ہے اور جو دیگر اقوام کے مذاہب و ادیان میں ناپید ہے۔ بسا اوقات صوفیاء کے نزدیک احکام سے متعلق وارد وہ احادیث صحیح قرار پاتی ہیں ، جن کے ضعیف اور نا قلوں کی تجریح پر علماء امت کا اتفاق ہے۔
کسی بھی انصاف پسند آدمی پر (جو اللہ کا خوف رکھتا ہو ) مخفی نہیں ہے کہ یہ باتیں اسلامی شریعت کو منہدم کرنے والی ہیں بلکہ پوری آبادی کو منہدم کرنے والی ہے، کیونکہ انسانی تہذیب، یہاں تک کہ مادی تہذیب بھی ان تین چیزوں علم ، طلب معاش اور نکاح کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی ، اور خاص طور پر اسلامی تہذیب و تمدن انہیں تین چیزوں پر قائم ہے، اسلام علم آخرت کی طلب کا حکم دیتا ہے جو کتاب و سنت کا علم ہے، اسی طرح دنیاوی علم جو انسانی زندگی کیلئے نفع بخش ہو اس کے حصول کی بھی ترغیب دیتا ہے۔
صوفیاء نے علم شریعت اور کتاب و سنت کے علم سے صرف نفرت ہی نہیں دلائی ہے بلکہ اپنے مزعوم کشف اور اللہ سے براہ راست علم کے نقل کرنے کو اسناد حدیث پر فوقیت دی، چنانچہ ان لوگوں نے جن احادیث کو چاہا صحیح قرار دیا خواہ وہ علماء حدیث کے نزدیک کتنی ہی ضعیف کیوں نہ ہوں ، اور وہ جن احادیث کو چاہتے ہیں ضعیف قرار دیتے ہیں چاہے وہ اس علمی دقیق پیمانہ کے مطابق کتنی ہی صحیح کیوں نہ ہوں جو اسلام میں ایک قابل فخر چیز ہے اور جو دیگر اقوام کے مذاہب و ادیان میں ناپید ہے۔ بسا اوقات صوفیاء کے نزدیک احکام سے متعلق وارد وہ احادیث صحیح قرار پاتی ہیں ، جن کے ضعیف اور نا قلوں کی تجریح پر علماء امت کا اتفاق ہے۔
اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اسناد حدیث کے سلسلہ میں صوفیاء کا طرز عمل علماء اسلام کے طرز سے یکسر مختلف ہے، کیونکہ وہ اپنے زعم کے مطابق کشف کے طریق سے نبی صﷺ سے براہ راست ملتے ہیں اور نبی ﷺ سے اتصال کے بعد کسی حدیث کے صحیح یا ضعیف کا حکم لگاتے ہیں ، اور وہ علم حدیث کے قواعد پر اس ناپاک حملہ کے ذریعہ اسے منہدم کرنے کیلئے ہمیشہ کوشاں رہے ہیں، اور ان کے ہاتھوں قواعد حدیث پیہم کھلونا بنے رہے اپنی خواہشات کے مطابق ان پر حکم لگاتے رہے من مانی کرتے رہے اور کسی ضا بطہ کا مطلق پاس و لحاظ نہیں کیا گیا۔
صوفیاء نے علم شریعت کو چھوڑنے اور اس سے نفرت دلانے میں خاص اصول کے وضع کرنے پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ علوم شریعت کو ڈھا نے اور زائل کرنے کیلئے بھی اصول و ضع کئے۔ نیز ان لوگوں نے علم سے صرف منع کرنے پر بس نہیں کیا بلکہ علم کو عورت (پوشیدہ شئی ) کہا جس کا چھپا نا واجب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو بھی تصوف میں قدم رکھتا ہے وہ علم سے بھاگتا ہے اور علم کے قریب نہیں بھٹکتا ہے نیز تصوف کی راہ میں علم کو رکاوٹ جمجھتا ہے۔ اندازہ لگائیے کہ علم سے دور ہونے والا کس طرح کی ضلالت و گمراہی کا شکار ہوگا اور ضلالت کی کس کھائی میں جا کر گریگا؟ ظاہر ہے کہ صوفیاء گمراہی و ضلالت میں اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ وہاں سے راہ راست کی طرف لوٹنے کا امکان ہی ختم ہوجاتا ہے۔
علوم شرعیہ کے مضبوط محل کو ڈھانے اور ان سے نفرت دلانے کے قواعد واصول وضع کرنے کے بعد صوفیاء نے لوگوں کو علم باطنی کی دعوت دی جس کو ان لوگوں نے حقیقی علم کے نام سے موسوم کیا، اور کہا کہ اس علم تک پہنچنے کا ذریعہ کشف، فتح ربانی اور فیض رحمانی ہے، واضح رہے کہ علم باطن سے ان کا ہدف اصلاح قلوب کا اہتمام نہیں ہے جیساکہ ان میں سے بعض کا خیال ہے، بلکہ اس سے ان کی مراد ایک خاص علم ہے جس کے ذریعہ وہ ایسے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں جن کا وہ بزعم خود دیدار بھی کرتے ہیں۔ اسی علم (باطن ) کی فضیلت صوفیاء بیان کرنے میں انتہائی مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں اور اس کی نفی یا مخالفت کرنے والوں پر شدید نکیر کرتے ہیں ۔ ان لوگوں نے آغاز میں اس علم و کشف کو صیغۂ راز میں رکھا لیکن جب لوگوں کو اپنی طرف جھکتے ہوئے دیکھا تو اس کا برملا اعلان کردیا۔
یوں تو اسلام اور تعلیمات اسلام سے لوگوں کو نفرت دلانا اور بیزار کرنا اور شکوک و شبہات پیدا کرنا تقریبا تمام دشمنان اسلام کا وطیرہ رہا ہے لیکن اس سلسلہ میں صوفیاء کی کوشش اور کدو کاوش بہت ہی خطرناک ثابت ہوئی ، کیونکہ لوگ ان کی سادگی اور وضع قطع دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوئے کہ دین اور شریعت کو سچی رہنمائی انہیں سے دستیاب ہو سکتی ہے، اور صراط مستقیم پر چلنا انہیں کے توسط سے ممکن ہے چنانچہ لوگ ان کے سامنے بچھ گئے اور ان کے اشارے پر طلنے لگے، جو لوگ اس راہ کے راہی ہوئے ان کو اس بات کا پتہ ہی نہ چلا کہ صوفیت کا لبادہ اوڑھے صوفیاء ان کے ایمان و عقیدہ پر ہاتھ صاف کررہے ہیں اور ان کے ایمان کا ایسا سودا کررہے ہیں جس کے بعد اقالہ (بیع رد کرنا) ممکن نہیں، صوفیاء کا یہ ایمان سوز، اخلاق سوز عمل لگ بھگ تیسری صدی سے آج تک جاری ہے اس لمبی مدت میں نہ جانے ان لوگوں نے کتنے لوگوں کو اسلام اور اس کی تعلیمات سے دور کیا، ایمان و عقیدہ سے محروم کیا اور شیطان کا پجاری بنایا جو یہ سمجھتے رہے کہ ‘‘ یحسبون انھم یحسنون صنعا ’’ یعنی وہ گمان کرتے رہے کہ اچھا کررہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ کتنے لوگ صوفیاء کے دام فریب میں پھنسے ان کا شمار ممکن نہیں تا ہم یہ کہا جاسکتا ہے کہ صوفیاء کی یہ اسلام دشمن اسکیم دوسرے دشمنان اسلام کی اسکیموں کے مقابلہ میں زیادہ کامیاب ہوئی، جس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی اصلیت کو چھپایا اور سادے لوگوں کے سامنے تصوف کا ایک ایسا خاکہ پیش کیا جس کا ظاہر خوشنما تھا لیکن باطن فتنہ اور عذاب الیم کے بواعث سے لبریز تھا۔
علوم شرعیہ کے مضبوط محل کو ڈھانے اور ان سے نفرت دلانے کے قواعد واصول وضع کرنے کے بعد صوفیاء نے لوگوں کو علم باطنی کی دعوت دی جس کو ان لوگوں نے حقیقی علم کے نام سے موسوم کیا، اور کہا کہ اس علم تک پہنچنے کا ذریعہ کشف، فتح ربانی اور فیض رحمانی ہے، واضح رہے کہ علم باطن سے ان کا ہدف اصلاح قلوب کا اہتمام نہیں ہے جیساکہ ان میں سے بعض کا خیال ہے، بلکہ اس سے ان کی مراد ایک خاص علم ہے جس کے ذریعہ وہ ایسے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں جن کا وہ بزعم خود دیدار بھی کرتے ہیں۔ اسی علم (باطن ) کی فضیلت صوفیاء بیان کرنے میں انتہائی مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں اور اس کی نفی یا مخالفت کرنے والوں پر شدید نکیر کرتے ہیں ۔ ان لوگوں نے آغاز میں اس علم و کشف کو صیغۂ راز میں رکھا لیکن جب لوگوں کو اپنی طرف جھکتے ہوئے دیکھا تو اس کا برملا اعلان کردیا۔
یوں تو اسلام اور تعلیمات اسلام سے لوگوں کو نفرت دلانا اور بیزار کرنا اور شکوک و شبہات پیدا کرنا تقریبا تمام دشمنان اسلام کا وطیرہ رہا ہے لیکن اس سلسلہ میں صوفیاء کی کوشش اور کدو کاوش بہت ہی خطرناک ثابت ہوئی ، کیونکہ لوگ ان کی سادگی اور وضع قطع دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوئے کہ دین اور شریعت کو سچی رہنمائی انہیں سے دستیاب ہو سکتی ہے، اور صراط مستقیم پر چلنا انہیں کے توسط سے ممکن ہے چنانچہ لوگ ان کے سامنے بچھ گئے اور ان کے اشارے پر طلنے لگے، جو لوگ اس راہ کے راہی ہوئے ان کو اس بات کا پتہ ہی نہ چلا کہ صوفیت کا لبادہ اوڑھے صوفیاء ان کے ایمان و عقیدہ پر ہاتھ صاف کررہے ہیں اور ان کے ایمان کا ایسا سودا کررہے ہیں جس کے بعد اقالہ (بیع رد کرنا) ممکن نہیں، صوفیاء کا یہ ایمان سوز، اخلاق سوز عمل لگ بھگ تیسری صدی سے آج تک جاری ہے اس لمبی مدت میں نہ جانے ان لوگوں نے کتنے لوگوں کو اسلام اور اس کی تعلیمات سے دور کیا، ایمان و عقیدہ سے محروم کیا اور شیطان کا پجاری بنایا جو یہ سمجھتے رہے کہ ‘‘ یحسبون انھم یحسنون صنعا ’’ یعنی وہ گمان کرتے رہے کہ اچھا کررہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ کتنے لوگ صوفیاء کے دام فریب میں پھنسے ان کا شمار ممکن نہیں تا ہم یہ کہا جاسکتا ہے کہ صوفیاء کی یہ اسلام دشمن اسکیم دوسرے دشمنان اسلام کی اسکیموں کے مقابلہ میں زیادہ کامیاب ہوئی، جس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی اصلیت کو چھپایا اور سادے لوگوں کے سامنے تصوف کا ایک ایسا خاکہ پیش کیا جس کا ظاہر خوشنما تھا لیکن باطن فتنہ اور عذاب الیم کے بواعث سے لبریز تھا۔
صوفیاء نے اپنے مزعوم کشف والہام کا جال بچھایا تاکہ سیدھے سادے لوگوں کا شکار کرسکیں جس طرح کہ مکڑی جال تان کر مکھی ، مچھر اور دیگر پتنگوں کا شکار کرتی ہے، جس طرح پتنگوں کو مکڑی کے جال میں پھنس کر اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے اسی طرح صوفیاء کے جال میں پھنسکر لوگوں کو ایمان و عقیدہ سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے، وہ لوگ جو اس علم شریعت کے دشمن ہیں جس کے بغیر نہ دین آسکتا ہے اور نہ ایمان ہی آسکتا ہے، ان کے حلقہ نشینوں کو جناتت اور شیطنت ہی تو دستیاب ہوگی؟ کیونکہ برتن میں جو چیز ہوگی وہی چھلکے گی۔
میرا چند دنوں ایک صوفی سے پالا پڑا تھا جو مدرسین سے کہتا تھا کہ تم لوگوں کو کیا آتا ہے؟ میرے پاس بیٹھو اور مجھ سے سیکھو ، بہر کیف میں اس کے پاس بار ہا بیٹھا اور اس کی ڈھیر ساری باتیں سنی اور کچھ اعتراضات تصوف کے خلاف کرکے اس کو لا جواب کیا۔ وہ اکثر اپنے ایک جاہل پیر کی بات کرتا تھا جسے وہ مرشد کہتا تھا، باتوں باتوں میں ایک دن بول پڑا کہ مجھے بار بار ایک بات کا افسوس ہوتاہے ، میں نے پوچھا وہ بات کیاہے؟ تو جواب دیا کہ میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ میں کب تک جیونگا، یہ گات سن کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی اور میں نے زور سے لاحول پڑھا، اتنے میں اس نے کہا کہ اصل میں تم کو صوفیاء کا درجہ اور مقام معلوم نہیں اس لئے حیرت کررہے ہو، پھر صوفیاء کا مرتبہ و مقام بیان کرتے ہوئے مندرجہ ذیل کہانی سنائی:
ایک عورت نے آکے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ میں لاولد ہوںآپ اللہ سے دعاء کیجئے کہ اللہ مجھ کو اولاد عطا کرے ، چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کے لئیدعائیں کیں تو اللہ نے وحی کے ذریعہ بتادیا کہ اس عورت کی کوکھ میں اولاد نہیں ہے، یعنی اس کی اولاد نہیں ہوگی، چنانچہ حضرت موسیٰ نے اس عورت سے بتادیا کہ تمہاری قسمت مین اولاد نہیں ہیں۔ حضرت موسیٰ کی بات سن کر وہ مایوس اپنی قسمت پر آنسو بہا تی ہوئی واپس ہوگئی۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد حضرت موسیٰ کا گزر اس عورت کے گھر کے پاس سے ہوا، تو انہوں نے اس کے گھر کے سامنے دو تین بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا تو انہیں شبہ ہوا کہ کہیں یہ اسی کے بچے تو نہیں ہیں؟ پھر انہوں نے اس عورت سے ملاقات کی تو قبل اس کے کہ حضرت موسیٰ اس سے سوال کرتے وہ خود بول پڑی، موسیٰ آپ نے تو کہا تھا کہ میرے حصہ میں اولاد نہیں ہیں لیکن دیکھئے اللہ نے اپنے ایک نیک بندہ کے وسیلے سے مجھے تین اولاد سے نوازا، یہ سنکر حضرت موسیٰ حیران ہوگئے اور وہاں سے لوٹنے کے بعد انہوں نے اللہ سے شکایت کی کہ اللہ تو نے تو کہا تھا کہ اس عورت کو اولاد نہیں ملے گی پھر اس کو اولاد کیسے مل گئی؟ تو اللہ نے کہا ائے میرے پیارے نبی اگر آپ اس راز کو جاننا چاہتے ہیں تو یہ چھری لیجئے اور یہ پیالہ لے جائیے اور اس میں بھر کر انسان کا خون لائیے ؟ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دائیں ہاتھ میں چھری اور بائیں ہاتھ میں پیالہ لیکر خون کی تلاش شروع کی، جس سے بھی ملاقات ہوئی اس سے خون دینے کی درخواست کی لیکن کوئی تیار نہیں ہوا، ان کو اسو کیلئے کافی بادیہ پیمائی کرنی پڑی اور اس معاملہ میں کسی نے بھی ان کا تعاون نہیں کیا آخر کار بغیر خون ہی کے واپس ہونے لگے، واپسی میں ان کی نگاہ ایک صاحب کشف پر پڑی جو نحیف قسم کے جسم کا مالک تھا، حضرت موسیٰ نے اس سے اپنی بادیہ پیمائی کا سبب بتایا تو اس نے کہا کہ میں اپنا خون دینے کو تیار ہوں لیکن آپ اپنے رب سے پوچھ کر آیئے کہ جسم کے کس حصہ کا خون چاہئے ، کلیجہ کا، دل کا ، ران کا یا حلق کا؟ حضرت موسیٰ اس کی بات سن کر حیران ہوگئے اور اپنے رب سے پوچھنے کیلئے چل پڑے اور اللہ سے اس نحیف شخص کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ اپنے جسم کے کسی بھی حصہ کا خون دینے کو تیار ہے لیکن مجھ سے کہا کہ پوچھ کر آؤ اللہ کو کس عضو کا خون چاہئے ؟ تو اللہ نے فرمایا موسیٰ تم مین اور اس بزرگ صوفی میں یہی فرق ہے کہ تم سے میں نے خون مانگا تو بجائے اپنا خون دینے کے دوسروں سے خون مانگتے پھرے مگر میرے اس خالص بندے نے جب سنا کہ میں نے خون مانگا ہے تو وہ اپنے جسم کے کسی بھی عضو سے خون دینے کو تیار ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب تم نے اس عورت کی اولاد کیلئے دعاء کی تو میں نے کہہ دیا کہ اس کو اولاد نہیں ہوگی لیکن وہ عورت خاموش نہیں بیٹھی بلکہ وہ کسی طرح میرے اس بندے کے پاس پہنچ گئی اور اس بندے نے چاہ ظاہر کی کہ اس عورت کے بچے پیدا ہوں تو میں نے اپنا سابق فیصلہ بدل دیا اور اس کو اولاد عطا کردی۔
یہ کہانی سننے کے بعد میں نے اس سے کہا کہ یہ قصہ سو فیصد من گھڑت ہے، کیونکہ کوئی بھی نبی اپنے زمانہ میں سب سے افضل انسان ہوا کرتے ہیں یہ قصہ اللہ کے ایک برگزیدہ نبی کو نیچا دکھا نے کے لئے گھڑ لیا گیا ہے تاکہ لوگ صوفیاء کے مقام کے قائل ہوں اور یہ سمجھنے پر مجبور ہوں کہ ایک صوفی اگر کسی نبی سے فائق ہو سکتا ہے تو علماء سے بدرجہ اولیٰ فائق ہوگا، اور علماء کا مقام علم کی بنا پر ہوتا ہے، لہذا جب علم کی بنا پر ان کا مقام ہے اور وہ مقام صوفیاء کے مقام سے کہیں کمتر ہے تو لا محالہ صوفیاء کا علم (کشف وغیرہ ) علماء کے علم شریعت سے بالا و برتر ہے، یہ وہ زہریلی فکر ہے جو صوفیاء اپنے گردو پیش میں پھیلا نے میں مصروف ہیں اور مسلمانوں کو شرعی علوم سے متنفر کررہے ہیں، ایسے دین دشمن اور اسلام دشمن عناصر سے مسلمانوں کو بچنے کی ضرورت ہے، انہیں چاہئے کہ اپنی سادہ لوحی میں صوفیاء کے ہتھے چڑھنے سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں اور دوسروں کو بھی صوفیاء کے نا پاک ارادوں اور گندی سازشوں سے آگاہ کریں۔
۞۞۞
LIKE↓& SHARE↓ it on Facebook
۞۞۞

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔