تصوف


*صوفیاء کے طریق ہدایت*

                                                                       ستمبر ۱۹۹۹ء ؁

علمی حدود میں جن لوگوں نے تصوف کے سلسلہ میں بحث کی ہے ان میں سے کوئی اس حقیقت کی معرفت تک نہیں پہنچ سکا کہ اسلام میں سب سے پہلا کون شخص تھا جس نے اپنے آپ کو لفظ صوفی سے موسوم کیا اور نہ ہی اس بات کا حتمی طور پر کسی کو سراغ لگا کہ صوفیانہ فکر کی داغ بیل کس نے ڈالی۔
اس میں کوئی شک مہیں کہ منہج تصوف عقیدۃ اور فکر کی حیثیت سے قبل اسلام پر وان چڑھا، اور وہ تمام اقوام و ادیان میں اور خصوصا بر ہمنیت اور ہند و مذہب میں رائج تھا نیز فارسی مجوسیوں میں بھی اس کا رواج تھا، اور مجوسی زندیقوں کے توسط سے اسلامی فکر کی طرف منتقل ہوا اور اس کے اصول و ضوابط چوتھی و پانچویں صدی ہجری میں مرتب ہوئے۔
بعض اہل قلم نے گمان یکا کہ زہد وتصوف میں گہرا تعلق ہے یہی وجہ ہے کہ تصوف کی نسبت ایسے لوگوں کی طرف کردی گئی جو زہد ، دنیا سے بے رغبتی اور اللہ و حدہ لا شریک لہ کی جانب سراپا متوجہ ہونے میں معروف و مشہور تھے جیسے فضل بن عیاضؒ ، عبداللہ بن مباری ؒ اور ابراہیم بن ادھمؒ وغیرہ ہیں۔ صوفیاء کے طبقہ نگاروں نے ان عابدوں اور زاہدوں کو قافلۂ صوفیاء کے أئمہ قرار دیا، اور بعض نے جیسے الشعرانی وغیرہ ہیں اس سے بھی دس قدم آگے بڑھ کر یہ کہنے کی جرأت کی کہ خلفاء راشدین طبقات صوفیاء کے اولین لوگ تھے۔
حالانکہ زہد و تصوف کے درمیان آسمان و زمین کا فرق ہے، زہد کی فضیلت و اہمیت میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے، نیز وہ ایک مشروع و مستحب عمل ہے جو انبیاء ؑ ، اولیاءؒ اور اللہ کے نیک بندوں کے اخلاق میں داخل ہے، جو ان نعمتوں کو ترجیح دیتے ہیں جو اللہ کے پاس ہیں اور دنیاوی لذتوں کو محض اس وجہ سے ترک کئے رہتے ہیں کہ ان کو اللہ کی جانب سے حاصل ہونے والی نعمتیں ولذتیں زیادہ مر غوب و محبوب ہوتی ہیں، فرمان خداوندی ہے:‘‘ و یطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا ، انما نطعمکم لو جہ اللہ لا نرید منکم جزاء ولا شکورا’’  یعنی اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھا نا کھلا تے ہیں مسکین ، یتیم اور قیدی کو (اور کہتے ہیں) ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کیلئے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر گزاری ۔ اور صحیحین میں حضرت عائشہؓ کی روایت مذکور ہے کہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ تین تین چاند گزر جاتے تھے اور حضور ؐ کے گھروں میں چولہا نہیں جلتا تھا، ان سے پوچھا گیا کہ آپ لوگوں کا کھانا کیا ہوتا تھا تو انہوں نے جواب دیا کھجور اور پانی ۔
یہ ان سوگوں کے کمال زہد اور دنیا سے بے رغبتی کی بنا پر تھا، اور جہاں تک تصوف کا تعلق ہے تو اس کا معاملہ بالکل الگ ہے، کیونکہ صاحب تصوف (صوفی ) جب اپنی مزعوم صوفیت کو پالیتا ہے تو زہد اس کے نزدیک بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے، صوفیت کے آغاز میں صرف اس کی ضرورت پڑتی ہے لیکن جب وہ اس کی انتہاء تک پہنچ جاتا ہے تو زہد کو بالائے طاق رکھ کر ہر چیز سے متمتع ہونے لگتا ہے خواہ وہ شریعت میں حلال ہو یا حرام اس یک ذرہ برابر پرواہ نہیں ہوتی اور وہ اپنی خانقاہ کو شراب نوشی، زنااور لو اطت وامر د پرستی کا اڈہ بنالیتا ہے، کیونکہ عقیدہ وحدۃ الوجود بہن اور اجنبیہ، فرشتہ اور شیطان بلکہ ستم یہ کہ بندہ اور رب کے مابین کو ئی فرق اور امتیاز باقی نہیں رکھتا ہے اس عقیدہ کا علمبر دار ابن عربی کہتا ہے:
العبــــــــــــد رب و الــرب عبـــــــــــــــــــــــــــــد
یا لیت شعــــری من المکـــــلف؟
ان قلـــــت عبــــــــــــــــد فــــــــــــذاكـــــــــ رب
وان قلــــت رب أنی یکــــــــــــــــــــــــــــلف

بندہ رب ہے اور رب بندہ ۔ تو پھر مکلف کون ہے ؟ اگر میں کہوں بندہ تو وہی رب ہے اور اگر کہوں رب تو وہ کیونکر مکلف ہوسکتا ہے ؟
اس تفصیل سے یہ حقیقت بے نقاب ہوگئی کہ زہد شریعت اسلام میں دین کی روح اور تقرب الی اللہ کا وہ اہم ذریعہ ہے جو انبیاء کرامؑ اولیاء عظامؒ اور صلحاء امت کے اندر بدرجۂ اتم موجود رہتا ہے اور کدی حال میں وہ ان سے الگ نہیں ہوتا ، اور تصوف میں زہد صرف مبتدی صوفیاء کا شعار رہتا ہے مگر صوفیت میں ترقی ہونے کے ساتھ ساتھ زہد ان سے دور ہوتا ، اور تصوف میں زہد صرف مبتدی صوفیاء کا شعار رہتا ہے مگر صوفیت میں ترقی ہونے کے ساتھ ساتھ زہد ان سے دور ہوتا جاتا ہے اور اس کے آخری مرحلہ تک پہنچنے کے ساتھ ہی وہ (زہد) یکسر ختم ہوجاتا اور اس کی صوفیاء کو چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی ہے ۔
صوفیاء نے اپنی ہدایت و رہنمائی کی بنیاد من گھڑت کہانیوں پر رکھی ہے جن میں سے بہت سی کہانیاں عبدالرحمٰن سلمی کی طبقات الصوفیہ میں مذکور ہیں، عبدالرحمٰن سلمی کے سلسلہ میں شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے فرمایا کہ ‘‘ انہ کان یضع الحکایات للصوفیہ‘‘  یعنی وہ صوفیوں کی حکایتیں و ضع کیا کرتا تھا۔ ابن تیمیہ ؒ کا کسی کے بارے میں اتنا کہہ دینا اس کے واضع ، کاذب اور بہتان تراش ہونے کیلئے کافی ہے۔
عبدالرحمٰن سلمی کہتاہے کہ میں نے ابو العباس محمدبن الحسن خشاب سے سنا انہوں نے کہا کہ ابوالحسن علی بن محمد بن احمد مصری نے مجھ سے بیان کیا کہ میں ابراہیم بن ادھم سے شام میں ملا اور میرے ساتھ ابو یوسف غسولی اور ابو عبداللہ سنجاری بھی تھے ، میں نے کہا ابو اسحاق آپ اپنے معاملہ کی ابتداء کے بارے میں مجھے بتائیے، تو انہوں نے کہا کہ میرے والد خراسان کے بادشاہ تھے اور میں مکمل جوان تھا، میں شکار کیلئے نکلا کرتا تھا، ایک دن میں اپنی سواری پر بیٹھ کر شکار کو نکلا اور میرے ساتھ میر ا کتا بھی تھا، میری نظر ایک خرگوش پر پڑی تو میں اس کی طرف پڑھا اتنے میں کسی نے مجھے آوازدی جو مجھے دکھائی نہیں دے رہا تھا، پھر اس نے کہا کہ ابراہیم کیا تم اسی کام کے لئے پیدا ہوئے، یا یہا تم کو اسی کا حکم دیا گیا؟ یہ آواز سن کر میں گھبرایا اور ٹھہر گیا اور تھوڑی دیر بعد پھر سواری کو آگے بڑھایا تو دو باری میرے کان سے ٹکرائی، پھر چوتھی مرتبہ اس آواز دینے والے نے زین کے بلند حصہ (کنارہ ) سے کہا کہ باخداتم اس کام کےلئے پیدا نہیں ہوئے اور تمہیں اس کا حکم بھی نہیں دیا گیا، یہ سنتے یہ میں اپنے گھوڑے سے اتر گیا اور حسن اتفاق سے وہاں مجھ کو اپنے والد کا چرواہا مل گیا جو بکریاں چرارہا تھا، تو میں نے اس کا اون (صوف ) والا جبہ لے کر زیب تن کرلیا اور اپنا گھوڑا اس کے حوالہ کردیا اور مکہ کی جانب چلنے لگا، چلتے چلتے میں ایک صحراء سے گذر رہا تھا کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ چل رہا ہے اور اس کے پاس نہ کوئی پانی کا برتن ہے اور نہ ہی کوئی تو شہ ہے، جب شام ہوئی اور اس نے مغرب کی نماز پڑھ لی تو اس نے ہونٹ ہلاتے ہوئے کوئی بات کہی جسے میں سمجھ نہ سکا، اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے پاس دو برتن رکھے ہیں، ایک میں کھا نا اور دوسرے میں پانی ہے ، میں اس میں سے کھایا اور پیا، اس طرح میں نے اس کے ساتھ چند ایام گذارے، جس دوران اس نے مجھے اسم اعظم سکھا دیا اور غائب ہو گیا اور میں تنہا پڑگیا ، پھر ایک دن تنہائی سے مجھے بڑی وحشت محسوس ہوئی تو اسم اعظم کے ساتھ اللہ سے دعاء کی ، اس کے زبان سے نکلتے ہی میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص میری کمر پکڑ کر کہہ رہا ہے کہ مانگ تو کیا مانگتا ہے؟ تیری مانگ پوری کی جائے گی، اس کی بات سے مارے گھبراہٹ کے میں کانپ گیا تو اس نے کہا گھبراؤ مت میں تمہارا بھائی خضر ہوں، میرے بھائی، داؤد نے تمہیں اسم اعظم سکھایا اس کے ذریعہ بغض و عداوت کی بنا پر کسی کے خلاف بددعاء نہ کرنا، اگر ایسا کیا تو وہ دنیا و آخرت دونوں میں برباد ہوجائے گا۔ بلکہ تم اس کے ذریعہ اللہ سے یہ دعاء کرو کہ وہ تمہاری بزدلی کو شجاعت میں تبدیل کردے ، تمہاری کمزوری کو دور کرے اور تنہائی کی وحشت کو زائل کرے اور ہر گھڑی تمہارے اندر نئی رغبت پیدا کرے ، اتنا کہہ کر وہ بھی مجھ سے روپوش ہوگیا (طبقات السلمی ص ۲۹۔ ۳۱)۔
نیز عبدالرحمٰن سلمی نے کہا کہ میں نے محمد بن حسن بغدادی سے کہتے ہوئے سنا کہ میں نے علی بن الحسن مصری سے سنا کہ احمد بن عیسیٰ خراز نے کہا کہ ہمارے اصحاب میں ایک سے زائد نے مجھ سے بیان کیا کہ (یعنی سعید بن جعفر و راق ، ہارون الآدمی اور عثمان نجار ) ہم سے عثمان بن عمارۃ نے بیان کیا کہ مجھ سے ابراہیم بن ادھم نے اہل اسکندریہ میں سے ایک آدمی کے متعلق بیان کیا جس کا نام اسلم بن یزید جہنی تھا، ابراہیم بن ادھم نے کہا کہ اس آدمی سے میری ملاقات اسکندریہ میں ہوئی تو اس نے کہا ائے لڑکے تم کون ہو؟ میں نے جواب دیا: خراسان کا ایک جوان ہوں ، اس نے کہا کہ دنیا سے نکلنے پر تم کو کس چیز نے آمادہ کیا؟ تو میں نے جواب دیا اس سے بے رغبتی اور اللہ سے ثواب پانے کی امید نے، تو اس نے کہا: بندہ کے واب کی امید اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ اپنے نفس کو صبر پر آمادہ نہ کرلے، اتنے میں اس کے ایک ساتھی نے کہا کہ صبر کیا ہے؟ تو اس نے کہا کہ صبر کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ بندہ نفسوں کے مکارہ ( نا پسند یدہ چیز اور تکالیف ) کو برداشت کرنے اور جھیلنے پر اپنے نفس کو سدھا لے، انہوں نے (ابراہیم بن ادھم نے ) کہا کہ اس کے بعد کیا؟ تو اس نے کہا: اگر مکارہ کو برداشت کرلیا تو اللہ اس کے قلب میں ایک نور پیدا کریگا، میں نے کہا وہ نور کیا ہے؟ اس نے کہا ایک چراغ ہے جو دل میں ہوتا ہے، جس کے ذریعہ وہ حق وباطل ، محکم و متشابہ کے درمیان فرق کرنا ہے، میں نے کہا کہ یہ تو اولیاء اللہ کی صفت ہے ، تو اس نے کہا استغفر اللہ ، عیسیٰ بن مریمؑ نے سچ فرمایا تھا کہ غیر اہل کے سامنے حکمت پیش نہ کرو کہ اسے ضائع کردو ، اور اس کے اہل سے اس کو نہ روکو کہ اس پر زیادتی کر بیٹھو۔
میں اس کی طرف راغب ہوا اور اس کے ساتھی لوگ بھی میرے ساتھ راغب ہوئے تو اس نے کہا: ائے لڑکے ! جب بزرگوں کی صحبت اختیار کرو یا ابرار (نیک لوگوں) سے گفتگو کرو تو ان کو غصہ دلانے سے بچو، کیونکہ ان کے خفاہونے سے اللہ خفا ہوتا ہے اور ان کے راضی رہنے سے اللہ راضی رہتا ہے، اس لئے کہ حکماء ہی علماء ہیں وہ اللہ سے راضی رہتے ہیں جب ہوگ ناراض ہوتے ہیں، اور وہی لوگ کل انبیاء و صدیقین کے بعد اللہ کے ہم نشین ہونگے ۔
ائے لڑکے: مجھ سے کچھ باتیں یاد کرلو ، اور سمجھو، اور برداشت سے کام لو جلد بازی نہ کرو، یقیناًغورو فکر کرنے والے کے ساتھ علم و حیاء ہوتی ہے اور بے وقوف کے ساتھ بد سلیقگی اور نحوست ہوتی ہے۔ ابراہیم بن ادھم کہتے ہیں کہ میری دونوں آنکھیں آنسوبہانے لگیں اور میں نے کہا: خداکی قسم مجھے اپنے والدین اور مال و دولت کی مفارقت پر صرف اللہ کی محبت اور دنیا سے بے رغبتی اور اللہ کے جوار کی رغبت نے آمادہ کیا۔
اس نے کہا اپنے آپ کو بخل سے بچاؤ : تو میں نے کہا بخل کیا ہے؟ اس نے کہا کہ اہل دنیا کے یہاں بخل یہ ہے کہ آدمی اپنے مال میں بخیلی کرے، اور اہل آخرت کے نزدیک بخل یہ ہے کہ اللہ سے اپنے نفس میں سخوت کرتا ہے تو وہ اس کے دل میں ہدایت و تقویٰ کا باعث ہوتی ہے اور اللہ اسے سکینت و قار، راجح علم اور عقل کامل سے نواز تا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جب بھی آسمان کا دروازہ کھلتا ہے وہ اسے کھلتا ہوا دیکھتا ہے، اتنے میں اس کے ساتھیوں میں سے ایک نے کہا : اس کو مارئیے اور خوب مارئیے کیونکہ ہم اسے ایسا غلام (لڑکا) دیکھتے ہیں جس کو اللہ کی ولایت کی توفیق دی گئی۔ اپنے ساتھی کی اس بات سے اس کو تعجب ہوا اور مجھ سے کہا کہ ائے لڑکے عنقریب تمہیں بزرگوں کی صحبت نصیب ہوگی، اس وقت تم زمین بن جانا جسے وہ روندیں گے، ان کے قدموں تلے رہنا اگر چہ وہ تجھے ماریں، گالی دیں، دھتکاریں اور قبیح باتیں سنائیں، اگر وہ تمہارے ساتھ یہ سب کریں تو دل ہی دل میں فکر کرو کہ کہاں سے آئے ہو، جب تم ایسا کوگے تو اللہ تمہاری مدد کریگا اور ان کے دلوں کو تمہاری طرف متوجہ کردیگا۔ اور یاد رکھو کہ جب کسی بندہ سے بھلے لوگ (بزرگان) دشمنی کرتے ہیں ، اور پرہیز گار لوگ اس کی صحبت سے اجتناب کرتے ہیں اور زاہدین اس سے بغض رکھتے ہیں تو وہ درحقیقت اللہ کی جانب سے رضامندی کا ثبوت ہوتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ سبب ناراضگی کو زائل کردیتا ہے تو ان کے دلوں کو اس کی جانب متوجہ کردیتا ہے، اور اگر وہ اللہ سے سرکشی کرتا ہے تو اللہ اس کے دل کو گمراہ کردیتا ہے ساتھ ہی ساتھ اس کو رزق سے محروم کردیتا ہے، اور اس کو اپنے اہل کی طرف سے جفا، فرشتوں کی ناراضگی اور رسولوں کے اعراض کا سامنا ہوتا ہے، پھر اللہ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی وہ کہیں بھی ہلاک ہوجائے۔
ابراہیم نے کہا کہ کوفہ سے مکہ کی جانب چلتے ہوئے ایک شخص کی مجھے صحبت حاصل ہوئی، شام ہوئی تو مغرب کی نماز پڑھی گئی، پھر اس نے زیر لب کچھ بات کی تو میں نے دیکھا کہ اس کے سامنے ایک کھانے کا برتن اور ایک کو زہ ہے، جس سے اس نے خود کھایا اور مجھے بھی کھلایا، ابراہیم کہتے ہیں کہ اتنا سننے کے بعد وہ رو پڑا اور اس کے ساتھی لوگ بھی رونے لگے ، پھر اس نے کہا کہ میرے بھائی! وہ داؤد علیہ السلام تھے ، ان کا مسکن بلخ کے ایک گاؤں میں ہے جس کا نام باردہ طیبہ ہے اور اس خطہ کو داؤد کی سکونت کی بنا پر فخر حاصل ہے، ائے لڑکے تم سے حضرت داؤد نے کیا کہا اور کیا سکھا یا؟ میں نے کہا انہوں نے مجھے اللہ کا اسم اعظم سکھا یا، تو اس نے کہا کہ وہ اسم اعظم کیا ہے؟ میں نے کہا اس کو زبان سے نکالنا میرے لئے بہت عظیم ہے، کیونکہ میں نے ایک مرتبہ اس کے ذریعہ دعاء کی تو ایک آدمی نے میری کمر پکڑ کر کہا مانگو تم کو دیا جائے گا، میں گھبرایا تو اس نے کہا مت گھبراؤ میں تمہارا بھائی خضر ہوں اور وہ اسم اعظم تمہیں میرے بھائی داؤد نے سکھایا تھا تم صرف نیک کام میں اس کو عمل میں لانا ۔ میرا یہ واقعہ سنکر اس کو حیرت ہوئی اور کہا تم کو اور تمہاری اتباع کرنے والوں کو بلند مقام حاصل ہوگا، پھر کہا، ائے لڑکے ہم نے تمہیں فائدہ پہنچا یا اور علم سکھایا۔ پھر اس کے بعض ساتھی نے کہا کہ ائے ہمارے معبود اب ہمیں روپوش کردے، ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ وہ لوگ کہاں چلے گئے؟
ان دوحکایتوں سے تصوف کا اصول و ضع کیا گیا۔ غور کیجئے کہ صوفیاء کی ہدایت کا ذریعہ کیا ہے؟
۱۔ سلمی کے گمان کے مطابق ابراہیم بن ادھم کو ایک غیبی آواز سے ہدایت حاصل ہوئی، یہ واقعہ صحیح یا غلط ہے وہ تو اور بات ہے لیکن اس کا جو پہلو یہاں مطلوب ہے وہ یہ کہ صوفیاء کے طریق ہدایت اس طریق کے سراسر مخلف ہے جو محمدؐ کے توسط سے ہمیں ملا ہے، اسلام میں ہدایت صرف کتاب اللہ وسنت رسول ﷺ سے دستیاب ہوتی ہے۔
۲۔ عبدالرحمٰن نے ابراہیم بن ادھم کیلئے جس ہدایت کا دعویٰ کیا ہے وہ یہ کہ اس نے (ہدایت ) والدین ، وطن اور ترک دنیا اورصوف زیب تن کرنے پر آمادہ کیا جب کہ اسلام میں ہدایت کی شرط یہ نہیں ہے کہ ہدایت حاصل کرنے والا دنیا کو چھوڑ دے اور اپنے دین کے ساتھ بلاسبب وطن سے راہ فرار اختیار کرے الا یہ کہ جب اسے ظلم و ستم کا اور دینی شعائر کی ادائیگی میں رکا وٹوں کا سامنا ہو۔
۳۔ اس کہانی میں یہ بات مذکور ہے کہ ابراہیم کوراستہ میں ایک آدمی ملا جس کے پاس کھانے پینے کا کوئی سامان نہیں تھا پھر غیب سے اس کے پاس کھانے پینے کا سامان آیا، نیز اس آدمی نے ابراہیم کو اسم اعظم سکھایا، پھر یہ بتایا گیا کہ وہ آدمی داؤد علیہ السلام تھے، اور جب انہوں نے اسم اعظم کے ساتھ دعاء کی تو خضر حاضر ہوگئے۔ حالانکہ کہیں اس کا ثبوت نہیں ملتا ہے کہ داؤد علیہ السلام دنیامیں لوٹ کر آئیں گے اور محمدﷺ کی امت میں سے کسی کو تعلیم دیں گے۔ حضور ﷺ نے حضرت عمرسے فرمایا تھا کہ اگر حضرت موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کیلئے بھی میری اتباع کے سواکوئی چارہ نہ ہوتا۔ اسی طرح اگر داؤدزندہ ہوکر دنیا میں آتے تو حضور ﷺ کی فرماں برادری ان پر واجب ہوتی اور ان کے لئے اس کا جواز نہ ہوتا کہ لوگوں کو دین کی کچھ ایسی بات بتائیں جس کی تعلیم محمدﷺ نے ایک آدمی سے ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا ’’ اللہم انی اسئلک بانی اشھد انک انت اللہ الذی لاالہ الا انت ، الا حد الصمد الذی لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد‘‘ تو آپ نے فرمایا کہ اس نے اللہ سے اس کے اسم اعظم دے ذریعہ سوال کیا۔ اگر اس کے ذریعہ اللہ سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے اور اگر دعاء کی جاتی ہے تو قبول کرتا ہے ۔ رسول ﷺ نے خبردی کہ اللہ کا اسم اعظم اس دعاء میں ہے اور اس کے ساتھ دعاء کرنے سے اللہ قبول کرتا ہے اور مانگنے سے وہ دیتا ہے، اور آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ جو اس کو زبان پر لاتا ہے اس کے پاس خضر حاضر ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مانگ کیا مانگتا ہے تجھے دیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک خرافاتی کہانی ہے بلکہ من گھڑت کتھا ہے جس کا صحت و حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ اسی طرح دونوں کہانیوں کو پڑھنے کے بعد بہت سارے ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جن کا اسلامی طریق ہدایت سے سمجھ سکتے ہیں اور صوفیاء کے طرق ہدایت کا بطلان اچھی طرح بے نقاب ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ صوفیاء کے مکر و فریب سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے اور مسلمانوں کو اسلام سے دور کرنے کی ان کی خفیہ ساز شوں کو سمجھنے کی ہم سب کو تو فیق عطافرمائے ۔ آمین۔



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook

۞۞۞

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔