جادو قرآن و وسنت کے آئینے میں

جادو قرآن وسنت کے آئینے میں
"جادو  اور جادوگر حقیقت کے آئینے میں"اس عنوان سے اگست 1996ء  کے شمارے میں میرا ایک مضمون شائع ہوا تھا، جس کے آغاز میں  اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ جادو اور ٹونے کا اثر  زائل کروانے کے لئے بہت سے مسلمان جادوگروں اور فاجروں کے پاس جاتے ہیں اور اپنا ایمان و عقیدہ بگاڑ لیتے ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ انہیں جادو کا شرعی علاج بتایا جائے ۔ میں نے اس میں یہ وعدہ  کیا تھا  کہ اس کے متعلق سلسلہ وار مگر مستقل مضمون پیش کروں گا، لیکن بعض مجبوریوں کی بنا پر مزید نہیں لکھ پایا تھا ، مگر اس دوران حیدرآباد ، آندھرا اور کرناٹک سے کئی خطوط موصول ہوئے ، جن میں وہ سلسلہ شروع کرنے کی فرمائش کی گئی ۔اب میں وہ سلسلہ شروع کرنے جارہاہوں۔
جن اور جادوگر کے  درمیان قوی تعلق ہوتاہے، بلکہ جن وشیاطین جادوکے بنیادی عوامل ہیں۔ بعض لوگوں نے جنات کے وجود کا انکار کیا جس کے نتیجہ میں جادو کا بھی انکار کیا اس لئے مناسب معلوم ہوتاہے کہ مختصرا جن و شیاطین کے وجود پر دلائل پیش کروں۔
1- قرآنی دلائل:
(1)                         واذ صرفنا اليك نفرا من الجن يستمعون القران  (الأحقاف:29)۔
(2)          یا معشر الجن والإنس الم یأتکم منکم یقصون علیکم آیاتی وینذرونکم لقآء یومکم ھذا۔ (الأنعام:131)۔
(3)           قل أوحِی إلیّ أنہ استمع نفر من الجن فقالوا انا سمعنا قرآناً عجباً۔  (الجن: 1)۔
(4)           وأنہ کان رجال من الإنس یعوذون برجال من الجن فزادوھم رھقاً  (الجن : 6)۔
(5)           إنمایرید الشیطن أن یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوٰۃ فھل انتم منتھون۔ (المائدۃ:91)۔
ان آیتوں کا ترجمہ بالترتیب حسب ذیل ہے:
(1)         اور جس وقت ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو آپ کی طرف متوجہ کردیا جو قرآن  سن رہاتھا۔
(2)    ائے جنوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تمھیں میں سے رسل نہیں آئے جو تم پر میری آیات پیش کررہے تھے۔ اور اس دن کی پیشی سے تمہیں ڈرائے نہ تھے؟
(3)    آپ فرمادیجئے کہ مجھے وحی کی گئی کہ جنوں کے ایک گروہ نے سنا پھر کہنے لگے کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا۔
(4)    اور یہ کہ انسان میں سے  کتنے لوگ  ایسے  تھے جو جنوں  میں سے کچھ لوگوں کی پناہ پکڑتے تھے ، پھر تو وہ (جنات ) اور زیادہ سرچڑھنے لگے۔
(5)    شیطان تو یہی چاہتاہے کہ تم میں شراب اور جوئے کے ذریعے دشمنی  اور بیر ڈالے۔اور تم کو اللہ کی یاد اور نماز سے روکے ۔ سو کیا اب بھی تم باز آؤگے؟    
2- حدیث نبوی ﷺ سے دلائل
(1)          حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ آپ ﷺ ہمارے بیچ سے کہیں چلے گئے ہم لوگوں نے آپ ﷺ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا لیکن آپ ﷺ نہ ملے ۔ تو ہم نے کہا کہ آپ ﷺ کو اڑالے جایا گیا، یا آپ کے ساتھ دھوکہ  کیا گیا  ۔ چناں چہ ہماری وہ رات بڑی  بری طرح گذری ۔ جب صبح ہوئی تو ہم کیا دیکھتے ہیں کہ آپ بطحاء کی جانب سے تشریف لارہے ہیں ۔ہم نے کہا :ائے اللہ کے رسول ﷺ جب آپ ہم سے اوجھل ہوگئے تو ہم نے آپ کو خوب تلاشا، اور نہ ملنے پر  ہم نے بری حالت میں رات گذاری ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ‘‘أتانی داعی الجن فذھبت معہ وقرأت علیھم القرآن’’۔
یعنی میرے پاس جنات کا قاصد آیا تو میں اس کے ساتھ چلا گیا اور ان پر قرآن پیش کیا۔ (رواہ مسلم)۔
(2)          حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے ۔  انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میں تم کو بکری اور جنگل سے دل چسپی لینے والا دیکھتا ہوں۔ چناں چہ تم جب اپنی بکریوں کے ساتھ کسی سنسان میدان میں ہوتو اذان کہوتو اپنی آواز بلند کرو ۔ کیوں کہ مؤذن کی آواز  جن ، انسان اور کوئی چیز نہیں سنے گی مگر قیامت کے دن اس کی شہادت دے گی۔ (رواہ البخاری)۔
(3)         حضرت عائشہ ؓ  سے روایت ہے ۔ وہ فرماتی  ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ :خلقت الملا ئکۃ من نور و خلق الجان من مارج من نار و خلق آدم مما وصف لکم (احمد و مسلم)  یعنی فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا اور جنات کو آگ کی لپیٹ سے اور آدم کو اس چیز سے جس کی صفت تم سے بتائی گئی یعنی مٹی سے۔
(4)          حضرت صفیہ بنت حیی سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ‘‘ان الشیطان یجری من ابن آدم مجری الدم ’’ (رواہ البخاری) یعنی بیشک شیطان ابن آدم کے خون جاری ہونے کی جگہ میں جاری ہوتا ہے (دوڑ تا ہے)۔
(5)         حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی کھانا کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پیئے تو دائیں ہاتھ سے پیئے۔ کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔
جنوں کے بارے میں افراط و تفریط:
کچھ لوگ جنوں کی حقیقت سے انکار کرتے ہیں اور وہ اس انکار میں اتنے متشدد ہیں کہ جنات کے ثبوت کی ہر دلیل کو نظر انداز کردیتے ہیں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی پر جن یا شیطان کا اثر ہوتا ہے تو اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں۔ اور جس پر ایسی مصیبت پڑتی ہے اس کی سخت نکیر کرتے ہیں۔ اب وہ بے چارہ جس کو اثر لاحق ہوتا ہے وہ خاموشی سے کسی غلط آدمی کے پاس چلا جاتا ہے اور غلط طریقہ سے علاج کرواتاہے۔ جس میں کبھی غیراللہ کی دہائی ہوتی ہے اور کبھی شرکیہ منتروں سے علاج ہوتا ہے ۔ بسااوقات مریض تو ٹھیک ہوجاتا ہے لیکن ایمان و عقیدہ سے تہی دامن ہوجاتا ہے۔ اس کے بر عکس کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کسی کو بخار بھی ہو اور شدت بخار سے اول فول بک رہا ہو تو برجستہ بول دیتے ہیں آسیب کا اثر ہے، اسی طرح اگر کسی کے بدن میں درد ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ جن وشیطان کا اثرہے، غرض یہ کہ ان کو ہرہر چیز میں جن، شیطان اور آسیب ہی نظر آتا ہے۔

جادو کے اثبات میں قرآنی دلائل:
(1)         اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ اور وہ لوگ اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین حضرت سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے، سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے، اور بابل میں ہاروت و ماروت دو فرشتوں پر جو اتارا گیا تھا، وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھا تے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں ، تو کفرنہ کر، پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے، جس سے خاوندو بیوی میں جدائی ڈالدیں۔ اور دراصل وہ اللہ کی مرضی کے بغیر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔  یہ لوگ وہ باتیں سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائیں اور نفع نہ پہنچا سکیں، اور وہ یقینی طور پر اس بات کو مانتے ہیں کہ اسے اختیار کرنے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ (ترجمہ آیت ۱۰۲،از سورۃ البقرۃ)۔
(2)          قال موسی اتقولون للحق لما جاء کم اسحر ھذا ولایفلح الساحرون) یونس:77) موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ حق جب تمہارے پاس آچکا تو تم کہتے ہو کیا یہ جادو ہے حالانکہ جادو گر لوگ کامیاب نہیں ہوسکتے۔
(3)         فلما القوا قال موسیٰ ما جئتم بہ السحر ان اللہ سیبطلہ ان اللہ لایصلح عمل المفسدین (یونس:81) چنانچہ جب انہوں نے ڈالا تو موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ جو کچھ لائے ہو جادو ہے، یقینی بات ہے کہ اللہ تعالی ٰاس کو ابھی درہم برہم کئے دیتا ہے کیونکہ اللہ ایسے فسادیوں کاکام بننے نہیں دیتا۔
(4)          اللہ تعالیٰ نے سورہ فلق میں فرمایا : ومن شرالنفّٰثٰت فی العقد) امام قرطبی کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ جادو گرنیاں ہیں جو دھاگے میں پھونک کر گرہ لگاتی تھیں ۔ نیز حافظ ابن کثیرفرماتے ہیں کہ مجاہد، عکرمہ، حسن، قتادہ اور ضحاک نے کہا کہ النفّٰثٰت سے مراد سواحر(جادوگرنیاں) ہیں۔
یہ چند آیتیں مثال کے طور پر ذکر کی گئی ہیں ورنہ جادو اور جادو گروں کے متعلق اور بھی بہت سی مشہور آیتیں ہیں جو دین کی ادنیٰ سمجھ رکھنے والوں پر بھی مخفی نہیں ہیں۔

جادو حدیث نبویؐ کی روشنی میں:
(1)         حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پربنی زندیق کے لبید بن أعصم نامی شخص نے جادو کیا تھا، جس کے اثر سے آپﷺ کا حال یہ ہو گیاتھا کہ آپﷺ کا خیال ہوتا کہ فلاں کام میں نے کرلیا حالانکہ اسے نہ کئے ہوتے تھے، ایک دن یا ایک رات آپﷺ میرے پاس تھے تو آپ نے خوب دعائیں کیں، پھر فرمایا: عائشہ تمہیں معلوم ہے ؟ میں نے جس بارے میں
اللہ سے دعاء کی اسے اللہ نے قبول فرمائی، جس کے نتیجہ میں میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک میرے سرہانے اور دوسرا پیتانہ بیٹھا۔ ایک نے دوسرے سے کہا: اس آدمی (محمدؐ) کو کیا تکلیف ہے؟ تو اس نے جواب دیا سحر زدہ ہیں ۔ پھر پہلے شخص نے سوال کیا: کس نے جادو کیا؟ تو دوسرے نے جواب دیا لبید بن اعصم نے، پھر سوال کیا کس چیز میں جادو کیا؟ تو دوسرے نے جواب دیا کہ کنگھے سے لئے گئے آپؐ کی داڑھی یا سر کے بال اور کھجور کے پیڑ میں، پھرپوچھا وہ اس وقت کہاں ہے؟ تو جواب دیا بئر ذروان میں۔ چناں چہ حضورﷺ اپنے اصحاب کی معیت میں اس کنویں کے پاس تشریف لے گئے اور وہاں سے واپس لوٹنے کے بعدفرمایا: عائشہ! اس کنویں کا پانی گویا مہندی کا عرق ہے اور اس کے پاس کے کھجور کے پیڑ کا سرا گویا شیاطین کے سر ہیں، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول آپ نے اس کو نکلوایا نہیںؓ تو آپ نے فرمایا اللہ نے مجھے عافیت دی چنانچہ میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ لوگوں کیلئے کوئی شر ابھاروں۔ پھر آپ نے حکم دیا تو اس کنویں کو پاٹ دیا گیا(بخاری و مسلم)۔
(2)         حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا سات ہلاک کن چیزوں سے اجتناب کرو! صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ سات چیزیں کیا ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، جادو ، ان نفسوں کو قتل کرنا جن کو اللہ نے حرام قرار دیا، سود کھانا، یتیم کامال کھانا، میدان جہاد سے بھاگ کھڑا ہونا اورر پاکد امن عورتوں پر تہمت لگانا (البخاری)۔
(3)         حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس نے علم نجوم حاصل کیا اس نے جادو کا ایک شعبہ حاصل کیا چنانچہ وہ علم نجوم کا حصول جتنا زیادہ کریگا وہ اتنا جادوہی کے حصول میں اضافہ کریگا۔ (ابوداؤد، علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قراردیا)۔
(4)         حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جس نے پرندہ اڑایا اور جس کیلئے اسے اڑایا گیا (یعنی شگون نکالا) اور جس نے کہانت کی یا جس کیلئے کیا گیا اور جس نے جادو کیا یا جس کے لئے جادو کیا گیا۔ اور جو شخص کاہن کے پاس آیا اور اس کی بات کی تصدیق کی تو اس نے محمد ﷺ پر نازل کی گئی چیز کو ٹھکرایا (علامہ البانی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن لغیرہ کے درجہ میں ہے)۔
اوپر مذکور قرآنی آیتوں اور احادیث رسول ﷺ سے یہ حقیقت بے نقاب ہوجاتی ہے کہ جادو ایک حقیقت ہے، لہٰذا اس کا انکار ایک بدیہی حقیقت کا انکار ہے، یہ اور بات ہے کہ جادو کا اثر بغیر مشیئت الٰہی کے نہیں ہو سکتا ہے۔
قرطبی کہتے ہیں کہ اہل سنت وجماعت کا مذہب یہ ہے کہ جادو ثابت ہے اور اس کی ایک حقیقت ہے، اور معتزلہ و بعض شوافع کامذہب یہ ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ نیز مازری کہتے ہیں کہ جادو ایک امر ثابت ہے اور دیگر أشیاء کی مانند اس کی حقیقت ہے، اور مسحور (جس پر جادو کیا گیا) اس کا اثر ہوتا ہے۔
امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ جادو کی ایک حقیقت ہے، جمہور قطعیت کے ساتھ اس حقیقت کے قائل ہیں، عام علماء کا مسلک بھی یہی ہے اور کتاب اللہ و سنت صحیحہ اس پر دال ہیں۔ ابو القاسم المقدسی کہتے ہیں کہ سحر کچھ عزائم و منتروں سے عبارت ہے جو دل اور جسم پر اثر
انداز ہوتا ہے پھر وہ سحر زدہ شخص کو بیمار کردیتا ہے اور مار ڈالتا ہے۔ نیز وہ شوہر اور بیوی کے درمیان تفریق کردیتا ہے ، نیز کہتے ہیں کہ اگر جادو کی حقیقت نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس سے پناہ مانگنے کا حکم نہ دیتا جیساکہ اس کا فرمان ہے ‘‘ومن شرالنفّٰثٰت فی العقد’’ (الفلق)
علامہ ابن قیم بدائع الفوئد میں فرماتے ہیں کہ اللہ کا قول ‘‘ومن شرالنفّٰثٰت فی العقد’’ اور حضرت عائشہ کی حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کا اثر ہوتا ہے اس کی حقیقت ہے۔
قارئین کرام مذکورہ تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جادوایک حقیقت ہے اور اس کا بر اثر ہونا نقلاً و عقلاً ثابت ہے۔ نیز آپ میں سے بہت سوں کو جادو کے مضر اثرات کا تجربہ بھی ہوا ہوگا۔ ان اثرات کو زائل کرنے کا شرعی طریقہ کیاہے؟ وہ انشاء اللہ اپنی جگہ میں آئے گا۔

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook

۞۞۞

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔